شہباز شریف کی پانامہ جے آئی ٹی میں پیشی، 3 گھنٹے سے سوالات جاری -
The news is by your side.

Advertisement

شہباز شریف کی پانامہ جے آئی ٹی میں پیشی، 3 گھنٹے سے سوالات جاری

اسلام آباد : وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پاناما کیس کی تحقیقات کے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوگئے، اس موقع پر فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے باہر سیکورٹی کے سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف اور انکے صاحبزادوں حسین اور حسن نواز کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے ، شہباز شریف نے متعلقہ دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دیں جبکہ تین گھنٹے سے سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب ،شہباز شریف بغیر پروٹوکول جوڈیشل اکیڈمی پہنچے، وزیرداخلہ چوہدری نثار اور اسحاق ڈار بھی شہبازشریف کے ہمراہ ہیں جبکہ ن لیگی رہنما حنیف عباسی اورزعیم قادری بھی جوڈیشل اکیڈمی کے باہرموجود ہیں۔

مسلم لیگ(ن)کے کارکنوں کی بڑی تعداد جوڈیشل اکیڈمی کے باہر موجود ہے ، شہبازشریف نے ہاتھ ہلا کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دیا۔

پاناما جے آئی ٹی میں پیشی سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب کی وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار سے ملاقات بھی ہوئی تھی جس میں پیشی کے حوالے سے مشاورت بھی کی گئی۔

شہباز شریف کی پیشی کے موقع پر سیکیورٹی انتہائی ہائی الرٹ اور مزید خاردارتاریں لگادی گئیں، اسپیشل برانچ اور رینجرز کے ڈھائی ہزار سے زائد اہلکار ڈیوٹی دے رہے ہیں جبکہ جوڈیشیل اکیڈمی جانےوالےراستےبند کردیئے گئے۔

ٹریفک پولیس نے متبادل روٹس کا پلان جاری کردیا گیا ہے اور شہری ایچ ایٹ قبرستان اور بیکن ہاؤس روڈ استعمال کریں، ایس ایس پی ساجد کیانی ،رینجرز کمانڈنٹ کرنل امان ،ڈپٹی کمشنر مشتاق احمد نے جوڈیشل اکیڈمی کا دورہ کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب سے حمزہ شہباز کے کاروبار، اثاثوں اور ٹیکس کے متعلق سوال ہوں گے، گلف اسٹیل اورحدیبیہ پیپر مل سے متعلق بھی سوالات کیے جائیں گے ۔

جے آئی ٹی نے خادم اعلیٰ کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے ساتھ حدیبیہ پیپرمل کے کاغذات بھی ساتھ لائیں۔

وزیر اعلیٰ پنجاب پیشی کیلیے لاہور سے اسلام آباد پہنچ گئے انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ عام آدمی کی طرح پروٹوکول کے بغیر جوڈیشل اکیڈمی پہنچیں گے۔


مزید پڑھیں : حکومت اور خاندان نے خود کو احتساب کے لئےپیش کردیا، میں اور میرا خاندان سرخرو ہوں گے، وزیراعظم


اس سے قبل جمعرات کو وزیر اعظم نواز شریف جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تھے، جے آئی ٹی میں پیشی اور تقریباً 3 گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ ‘میں جے آئی ٹی کے سامنے اپنا مؤقف پیش کرکے آیا ہوں، میرے تمام اثاثوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کے پاس پہلے سے موجود ہیں، میں نے آج پھر تمام دستاویزات جے آئی ٹی کو دے دی ہیں۔


مزید پڑھیں : شریف خاندان پر پی ایچ ڈی کرنی ہے تو جے آئی ٹی شہبازشریف کو بلا لے، رانا ثناء اللہ


واضح رہے کہ جے آئی ٹی کی جانب سے شہباز شریف کی طلبی کے احکامات اُس روز سامنے آئے تھے جب ان کے قریبی ساتھی اور وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا تھا کہ اگر جے آئی ٹی شریف خاندان پر پی ایچ ڈی کرنا چاہتی ہے تو شہباز شریف کو طلب کرلے۔

یاد رہے کہ نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کو بھی چوبیس جون کو پیشی کے سمن مل چکے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جی آئی ٹی کو 13 سوالات دیئے گئے اورحکم دیا گیا کہ وزیراعظم نوازشریف سمیت ان کے خاندان کے ارکان پیش ہوں گے، حسین نواز5 مرتبہ حسن نواز2 مرتبہ پیش ہو چکے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں