The news is by your side.

مغل دور کے گرم حمام کا چراغ جسے دیوار توڑ کر نکالا گیا

مغل دور کے معماروں اور اس زمانے کی عمارتوں کا تذکرہ کئی کتابوں میں محفوظ ہے جن میں محلّات، بارہ دری، مینار، عبادت گاہیں، باغات، سرائے اور حمام بھی شامل ہیں جن میں سے کئی آج بھی آگرہ اور دہلی میں شکست و ریخت کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

اس زمانے میں جب آج کی طرح حساب کتاب کی سہولت اور پیمائش کے آلات نہ تھے، تب ماہر معمار اور انجینیئروں نے انھیں اپنے علم اور ہنر کی بدولت اعجوبہ و یادگار بنا دیا۔ برصغیر ہی نہیں دنیا بھر کے ماہرینِ‌ آثارِ قدیمہ نے مغل دور کی ان تعمیرات کا ذکر اپنی کتابوں میں‌ کیا ہے۔

مغل دور میں حکیم عبداللہ کو علومِ طبعی اور ہندسہ میں کمال حاصل تھا جو حکیم گیلانی جیسے یگانۂ روزگار کا شاگرد تھے۔ حکیم عبد اللہ کے بارے میں‌ مستند معلومات تو نہ ہونے کے برابر ہیں، لیکن ہم ان کے فنِ معماری کا شاہکار بتائے جانے والے حمام کا ذکر یہاں کررہے ہیں، اس کا احوال دو کتابوں تاریخِ‌ آگرہ اور مسلم فلاسفہ میں راویوں کی زبانی ملتا ہے۔

یہ آگرہ کا حمام تھا جو مربع شکل میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کے مغرب میں ایک گنبد نما حجرہ اس کے دو طرف چھے حجرے، مشرق میں داخلے کا دروازہ اور محراب دار حجرے بنائے گئے تھے۔ اس حمام کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے مغربی رخ کے کمرے کی ایک دیوار میں حوض تھا، اس حوض کے نیچے طاقچہ تھا جس میں ایک اسکورا تھا، اسکورے میں چربی جیسا مسالہ اورایک بتی تھی جو شمع کی طرح جل رہی تھی۔ طاقچہ بند تھا۔ کہتے ہیں‌ کہ حوض کا پانی اس چر اغ کی لو سے اس قدر گرم ہوجاتا تھا کہ پانی کے بخارات بن کر تمام کمروں میں پھیل جاتے تھے، مریض آکر انھی درجوں (کمروں) میں بخارات سے غسل کرتے اور صحت یاب ہوتے تھے۔ حکیم صاحب نے شمال و جنوب کے کمروں کو عام غسل خانے کے طور پر تعمیر کیا تھا۔ اس حوض میں پانی برابر کی مسجد کے کنوئیں سے آتا تھا۔ مشہور ہے کہ 19 ویں صدی کے آغاز میں جب آگرہ پر انگریزوں کا تسلط ہوا تو اس وقت کسی فوجی کو اس حیرت ناک حمام کا علم ہوا اور اس نے راز معلوم کرنے کے لیے حمام کی دیوار توڑ کر چراغ کو نکالا۔ اس چراغ کو لندن بھیج دیا گیا پھر اس کا حال معلوم نہ ہو سکا۔ کہتے ہیں کہ اس وقت کے آگرہ کا کوتوال اس موقع پر موجود تھا جس نے حمام کی کھدائی کا آنکھوں دیکھا حال اپنے بیٹے ڈپٹی وقارعلی سے بیان کیا تھا اور اس نے یہ ماجرا مفتی انتظام اللہ شہابی کو سنایا جنھوں نے ’’تاریخِ آگرہ‘‘ (مطبوعہ دہلی) اور ’’مسلم فلاسفہ‘‘ (انجمن اسلامیہ کراچی) میں اسے درج کیا ہے۔

اس کے کئی سال بعد ایسا ہی ایک کمرہ آگرہ میں بنایا گیا اور شہنشاہ جہانگیر نے اس کمرے کا معائنے کیا جس کا ذکرخود جہانگیر نے اپنی تزک میں کیا ہے۔’’میں حکیم علی کا حوض دیکھنے کی غرض سے گیا، اس قسم کا حوض اس نے والدِ بزرگوار کے زمانے میں لاہور میں تعمیر کیا تھا۔ اس حوض کا رقبہ 6×6 ہے۔ حوض کے برابر ایک کمرہ ہے جو بہت روشن ہے اس کمرے کا راستہ حوض (کے پانی) میں سے ہو کر جاتا ہے۔ دس بارہ آدمی کمرے میں بیٹھ سکتے ہیں۔‘‘

کہتے ہیں کہ جہانگیر نے حکیم کے فضل و کمال سے متاثر ہوکر اسے دو ہزاری منصب پر فائز کیا۔ یہ حوض آگرہ میں ’’حکیم کا باغ‘‘ کے نام سے مشہور تھا۔

(ماخوذ:‌ مغل دور کے عجائبات)

Comments

یہ بھی پڑھیں