The news is by your side.

Advertisement

اسپاٹ فکسنگ کے بعد شاہد آفریدی نے محمد عامر کو تھپڑ مارا تھا؟

کراچی: سابق اسٹار آل راؤنڈر پاکستان کرکٹ ٹیم شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ میں نے اسپاٹ فکسنگ کے بعد ہوٹل کے کمرے میں بلا کرمحمد عامر کو تھپڑ نہیں مارا تھا، عبدالرزاق نے کہا آواز آئی تھی تو میں نے ان سے کہا بھائی بولنے سے پہلے مجھ سے پوچھ ہی لیتے۔

تفصیلات کے مطابق سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم شاہد خان آفریدی نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’ہر لمحہ پرجوش‘ میں شرکت کی اور میزبان وسیم بادامی کے معصومانہ سوالات کے جواب دئیے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ بنگلہ دیش بہت مضبوط ٹیم ہے، سیمی فائنل کا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، پہلے دومیچز جیتنے ہوں گے، اس کے بعد سیمی فائنل کی راہ خود ہی ہموار ہوجائے گی۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ سرفراز احمد سب کھلاڑیوں کو ساتھ لے کر چلنے والا کھلاڑی ہے، ہیڈ کوچ مکی آرتھر پاکستان کی تاریخ کے بہترین کوچ نہیں ہیں۔

آفریدی نے اعتراف کیا کہ ماضی میں ٹیم میں سب کو اس وقت کے کپتان یونس خان سے مسائل تھے، میں نے کھلاڑیوں سے کہا یونس کے پاس لے چلتا ہوں ان کے سامنے تحفظات رکھ دیں تو کھلاڑیوں نے کہا کہ ہمیں چیئرمین کرکٹ بورڈ اعجاز بٹ سے بات کرنی ہے۔

جاوید میانداد کو اپنی کتاب گیم چینجر میں چھوٹا آدمی کہنا صحیح تھا کے سوال کے جواب میں آفریدی نے کہا کہ ففٹی ففٹی، سعید اجمل یونس کو ہٹانے پر حلف لینے کی جو بات کہہ رہے ہیں وہ کتاب میں لکھ چکا ہوں، میرا یونس کو کپتانی سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی نے کہا کہ حکومت بہتر کرنے کے لیے عمران خان کو تھوڑا ٹائم دینا چاہئے، میں نے اپنی کتاب میں وزیراعظم کو تقریباً دو سال دئیے ہیں، عمران خان کرکٹ کے بعد سیاست میں آئے اور بہت محنت کی۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ بلاول بھٹو میں بہت میچوریٹی آئی ہے میری خواہش ہے کہ بلاول اپنی والدہ کے نقش قدم پر چلیں جبکہ پرویز مشرف نے اپنے دو تین سال ملک میں کچھ بہتری کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ میں کبھی سیاست جماعت نہیں بناؤں گا البتہ کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار کر بھی سکتا ہوں اور نہیں بھی۔

سابق کپتان کا کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی تھا جب والد کے پیسے اسٹاک ایکسچینج میں ڈوب گئے تھے اور میں نے چھپ کر والدین کو روتا ہوا دیکھا تو اللہ سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے بڑا کرکٹر بنادے اور اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کرلی، ان سب حالات میں میرے والدین نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں