The news is by your side.

Advertisement

میں بھی معاملات کوعدالت نہیں لے جانا چاہتا تھا، شاہد آفریدی

کراچی : پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ میں خود بھی معاملات کو عدالت نہیں لے جانا چاہتا تھا، خدا شکر ہے کہ جاوید بھائی نے اپنے الفاظ واپس لے لیے، جاوید بھائی میرے بڑے بھائی ہیں ان کی عزت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، اے آر وائی نیوز کا شکر گزار ہوں کہ اس طرح کے ایشوز کو وہ بہت مثبت دکھاتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جاوید میانداد سے صلح کے بعد اے آر وائی نیوز سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہی ، شاہد آفریدی نے کہا کہ میں خود یہ نہیں چاہتا تھا کہ بات عدالت تک پہنچے، میں بھی یہ ایشو ختم کرنا چاہ رہا تھا، شکر ہے جاوید بھائی نے الفاظ واپس لے لئے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ایسے الفاظ استعمال نہیں کیے جانے چاہئیں کہ کسی کا دل نہ دکھے، تنقید ضرور ہونی چاہئیے، کھیل پر تنقید اچھی بات ہے لیکن ذاتی نوعیت کی تنقید کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کرنی چاہیئے، جاوید بھائی میرے بڑے بھائی ہیں ان کی عزت کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں آفریدی نے کہا کہ اس ملاقات کے حوالے سے شعیب اختر ، وسیم اکرم راشد لطیف، مشتاق احمد، معین خان اور دیگر سینئرز نے اہم کردار ادا کیا، انہوں نے کہا کہ غلطیاں ہر انسان سے ہوتی ہیں اور انسان اپنی غلطی سے ہی سیکھتا ہے، ہماری کوشش ہونی چاہیئے کہ ہماری کسی بات سے پڑوسی ملک یا کسی اور کو ہماری کرکٹ کا مذاق اڑانے کا موقع نہ ملے۔

فیئر ویل کےحوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے 500 سے زائد میچز کھیلے ہیں، میں ایک میچ کی بھیک نہیں مانگ رہا ، میں نے پی سی بی سے صرف اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں اپنے لوگوں کے سامنے اپنا بیٹ لہرا کر الوداع کہوں۔

میں نے اس ملک کیلئے بیس سال تک کرکٹ کھیلی ہے اور عزت کے ساتھ رخصتی چاہتا ہوں ، اگر پی سی بی فیئر ویل دینا نہیں چاہتا تو کوئی بات نہیں، ضروری نہیں کہ انسان کی ہر خواہش پوری ہو، مجھے خوشی ہے کہ میڈیا اورعوام نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اے آر وائی کا شکر گزار ہوں کہ یہ چینل ان چیزوں کو ہمیشہ مثبت دکھاتا ہے، اس مسائل کو حل کرنے کی بات کرتا ہے، جو بہت اچھی بات ہے۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں