site
stats
کھیل

کرکٹر نہ ہوتا تو پاک فوج کا سپاہی ہوتا، شاہد آفریدی

کراچی :  سابق کپتان شاہد آفرید ی نے کہا ہے کہ اگر کرکٹر نہ ہوتا تو فوج میں جاتا کیوں کہ یہ آرمی ہی ہے جس نے ملک کو سنبھالا ہوا ہے۔

فیس بک پر لائیو ویڈیو میں مداحوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب دیتے ہوئے شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف چھکا مار کر پاکستان کو فتح دلوائی تو یہ میری زندگی کا سب سے خوشگوار اور یاد گار دن تھا جسے کبھی نہیں بھول سکتا۔

ایک بھارتی مداح نے سوال کیا کہ بھارت کب آئیں گے تو شاہد آفریدی نے مداح کو مخاطب کرتے ہوئے کہا اپنی حکومت سے کہیں کہ پہلے وہ ہمارے ساتھ تعلقات بہتر کرے، پاکستان تو ہمیشہ خوش آمدید کہتا ہے لیکن بھارت بھی ایک قدم آگے بڑھائے، جب تعلقات بہتر ہو جائیں گے تو آنا جانا آسان ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میری چار بیٹیاں ہیں اور چاروں بہت پیاری ہیں اور مجھے عزیزہیں لیکن چھوٹی اولاد سے ہر باپ کو ہی محبت ہوتی ہے اس لیے چھوٹی بچی کو دیگر بیٹیوں سے ایک دو نمبر زیادہ دوں گا۔

 

قومی ٹیم کی قیادت کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ کپتانی کے لیے سرفراز سے بہتر کوئی چوائس نہیں ہے اس لیے مصباح کے بعد سرفراز کو ٹیسٹ کی بھی کپتانی دیے جانے کے چانسز ہیں لیکن امیدوں پر پورا اترنے کیلئے انہیں اپنی فٹنس برقرار رکھنی ہوگی۔

انہوں نے اپنے کرکٹ میں آنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر کہا کہ عمران خان کو دیکھ کر کرکٹ شروع کی اور انہی کی طرح فاسٹ بولر بننا چاہتا تھا لیکن کسی نے مجھے کہا کہ بٹا مارتا ہوں اس لیے فاسٹ بولنگ چھوڑ دی جس کے بعد عبدالقادر کو دیکھ کر لیگ اسپین شروع کی۔

اپنے پسندیدہ کھلاڑی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں شاہد آفریدی نے بتایا کہ سچن میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں مجھے یاد ہے کہ ان کی شرٹ کا نمبر شروع سے ہی دس تھا جب کہ لارا کی شرٹ کا نمبر بھی یہی تھا اور دس نمبر مجھے ویسے بھی پسند تھا جب کہ ٹیم میں یہ کسی کے پاس نہیں تھا تو میں نے فوری طو ر پر 10 نمبر کی شرٹ پکڑ لی۔

فیئر ویل میچ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ کام میں تاخیر ہو جائے تو اس کا مزہ نہیں آتا، فیئر ویل میچ میں اپنے لیے نہیں لے رہا تھا بلکہ یہ مثال قائم کرنے کیلئے تھا کیونکہ ماضی میں بڑے بڑے کھلاڑیوں کو باعزت طریقے سے رخصت نہیں کیا گیا۔ اب مجھے خوشی ہے کہ یونس خان کو میری آنکھوں کے سامنے فیئرویل مل رہا ہے اور امید ہے کہ یہ روایت برقرار رہے گی۔

سیاست کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سب سیاست دان میرے بہت اچھے دوست ہیں،میں ان سے ایک بات پوچھنا چاہوں گا کہ اگر سب کا مقصد پاکستان کی ترقی ہے تو وہ مل کر کام کیوں نہیں کرسکتے ؟ان کا مقصد پاکستان ہے یا صرف کرسی؟۔ میں کسی بھی سیاسی جماعت کو جوائن نہیں کروں گا کیونکہ میں بہت سٹریٹ فارورڈ بندہ ہوں اور جس بھی جماعت میں جاﺅں گا وہ مجھے فوری طور پر نکال دیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top