site
stats
پاکستان

بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو کراچی کا یہ حال نہ ہوتا، شاہد آفریدی

کراچی : سابق کپتان شاہد آفریدی نے کہا ہے کہ کاش بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں تو سندھ اور بالخصوص کراچی کی یہ حالت نہیں ہوتی، سندھ حکومت سے اکیڈمی کے لیے جگہ مانگی لیکن انہوں ںے انکار کردیا۔

وہ کراچی میں اپنے اعزاز میں دی گئی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن سہولیات کا فقدان ہے اس لیے سندھ حکومت سے کافی عرصے سے اکیڈمی کے لیے جگہ مانگ رہا تھا لیکن شاید کھیل حکومت کی ترجیح نہیں اس لیے زمین دینے سے انکار کردیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں پینے کو صاف پانی تک میسر نہیں، میری فاؤنڈیشن نے سندھ میں پانی کے مسئلے کے حل کے لیے 114 دیہاتوں کو کور کیا جس کے لیے مجھے بہت لوگوں نےسپورٹ کیا اور کئی ایک نے تنقید بھی کی تاہم میں نے اپنا کام جاری رکھا کیوں کہ میری فاؤنڈیشن میری نہیں آپ لوگوں کی ہے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ کراچی کنگزکے لیے پورے پاکستان سے ’’ پاورہٹر‘‘ ڈھونڈ رہا ہوں تا کہ اگلے سیزن میں شائقین کرکٹ کراچی ٹیم کو نئے انداز میں جارحانہ بیٹنگ کرتے دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں کام کرنے کی کوئی پیشکش نہیں آئی کرکٹ بورڈ میں کرکٹرزکا ہونا ضروری ہے کیوں کہ وہ کھیل کو زیادہ اچھی طرح جانتے ہیں اور تمام تر باریکیوں سے آگاہ ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس چیز کے لیے میں نے آواز اٹھائی وہ مصباح اور یونس کے لیے ہونے جا رہی ہے جس پر مجھے خوشی ہے کہ بورڈ کا اس جانب دھیان تو گیا ویسے بھی میں نے پی سی بی کو شکریہ کے ساتھ  فیئرویل لینے سے منع کردیا تھا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ عمران بھائی بڑے کپتان رہے ہیں اور اس وقت پاکستان ٹیم کے بڑے بڑے نام  ان کے ساتھ تھے جب کہ مصباح الحق نے مشکل وقت میں ٹیم کو اٹھایا ہے اور ٹیسٹ ٹیم کے بہترین کپتان ثابت ہوئے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مصباح اور عمران بھائی کا کوئی تقابل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک دو دن میں بڑا اعلان کروں گا اس کے علاوہ کاؤنٹی سیزن اور بنگلا دیش کے لیے جاؤں گا کراچی کا مجھ پر قرض ہے میں نے کرکٹ کراچی سے شروع کی پہلے بھی کہا تھا کہ پنجاب میں حالات ٹھیک نہیں توپی ایس ایل کا فائنل کراچی میں ہونا چاہیے۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ڈرپوک ہوتا تو ورلڈکپ ہارنے کا بوجھ اپنے اوپر نہ لیتا کرکٹ کیریئر میں میرا ٹمپرامنٹ پر کبھی قابو نہیں رہا کئی افسوسناک لمحے بھی آئے اور کئی فتوحات پر سر اب بھی فخر سے بلند ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احمد شہزاد چھوٹے بھائیوں کی طرح ہے ان سے دوستی ختم نہیں ہوئی یہ تاثر غلط دیا جا رہا ہے بلکہ میں اسے ہرو قت سمجھاتا رہتا ہوں کہ جب تک اپنا نیچرل گیم نہیں کھیلے گا کامیاب نہیں ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top