پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

جب ہوٹلوں اور چائے خانوں کا رواج نہیں تھا!

اشتہار

حیرت انگیز

مغلیہ دور کی دلّی کے باسی کبھی اپنی زبان، تہذیب اور ثقافت میں واقعی ہندوستان کے دیگر شہروں کے باسیوں سے پہچان میں ممتاز ہوا کرتے تھے۔ نشست و برخاست، طرزِ گفتار کے ساتھ ساتھ دلّی خوش ذائقہ پکوان کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ دلّی کے چٹخارے ہی نہیں اس شہر کے چٹورے بھی مشہور تھے۔

تقسیم ہند کے بعد مزید وقت گزرا تو مرچ مسالوں کو گھروں‌ میں کوٹنے اور محفوظ رکھنے کا رواج ختم ہونے لگا اور ملاوٹ بھی عام ہوگئی۔ رفتہ رفتہ عورتوں کے ہاتھوں‌ سے وہ ذائقہ ہی جاتا رہا جو کبھی دلّی کی پہچان ہوا کرتا تھا۔ عورتوں کے علاوہ شہر میں ماہر طبّاخ اور باورچی بھی ہوتے تھے جو خاص طور پر تقریبات کے لیے پکوان کرتے تھے۔ مگر پھر سب کچھ بدل گیا اور دلّی کی تہذیب و ثقافت کو قسم قسم کی کثافت نے چاٹ لیا۔ یہاں‌ ہم صاحب اسلوب ادیب اور باکمال خاکہ نگار شاہد احمد دہلوی کی کتاب سے اسی دور کی یاد تازہ کرتا اقتباس پیش کررہے ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:

دلّی والے بڑے چٹورے مشہور تھے۔ دراصل وہ خوب کماتے تھے اور خوب کھاتے تھے۔

خوش باش اور بے فکرے تھے۔ کوڑی تک کفن کو لگا نہیں رکھتے تھے۔ جز رس اور کنجوس آدمی کو منحوس سمجھتے تھے اور اس کی شکل تک دیکھنے کے روادار نہ تھے۔ کبھی صبح ہی صبح اگر کسی ایسے کی شکل اتفاقاً نظر آجاتی تو اندیشہ کرتے کہ دیکھیے آج کیا افتاد پڑتی ہے۔ اکژ ہوتا بھی یہی تھا کہ ان کے وہم کی وجہ سے کوئی نہ کوئی پریشانی پیش آجاتی تھی۔

دلّی والوں کی مثل تھی کہ ‘‘ایک داڑھ چلے ستّر بلا ٹلے۔’’ کھانے کا تھک جانا ہی روگ کی جڑ ہے۔ دلّی والے گھر میں بھی اچھا کھاتے تھے اور باہر بھی۔ غریبوں میں تو سبھی گھر والیاں خود کھانا پکاتی تھیں۔ اوسط درجے کے گھروں میں بھی سالن کی ایک یا دو ہنڈیا ں گھر والی بی بی خود پکاتی تھی۔ روٹی ڈالنے کے لیے ماما رکھی جاتی تھی۔ بغیر گوشت کے غریبوں کے حلق سے بھی روٹی نہیں اترتی تھی۔ اگر گوشت نہ ہونے کے باعث دال پکتی تو اس پر بھی دو دو انگل گھی کا کھڑا ہونا ضروری تھا۔ سادہ ترکاری کو ہندوؤں کا کھانا بتایا جاتا تھا۔

اس زمانے میں دلّی میں ہوٹلوں اور چائے خانوں کا رواج بالکل نہیں تھا۔ شام ہوتے ہی چوک کی بہار شروع ہوجاتی۔ جامع مسجد کے مشرقی رخ جو سیڑھیاں ہیں ان پر اور ان کے پہلوؤں پر ہر قسم کا سودا ملتا تھا۔ یہیں شام کو چٹور پن بھی ہوتا تھا۔ سستے سمے تھے۔ ایک پیسے میں چار سودے آتے تھے۔ دست کار شام کو دھیانگیاں لے کر آتے، دھیلی پاؤ لا گھر میں دیتے، باقی اپنی انٹی میں لگائے رہتے۔ کارخانے یا کام پر سے آنے کے بعد میلے کپڑے اتارتے اور نہا دھو کر اجلا جوڑا پہن لیتے اور چھیلا بن کر گھر سے نکلتے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں