اردو دنیا میں اگر شاہد حمید کو صرف بطور مترجم یاد کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ ان کا کام غیرمعمولی اور اہم نوعیت کا ہے اور وہ ہمارے ایک بڑے محسن ہیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے نہ صرف غیرملکی ادب سے شاہکار کہانیاں اور وقیع کتابوں کو اردو کا قالب عطا کیا بلکہ اس کا معاوضہ نہ ملنے پر اپنی گرہ سے خرچ کر کے انجام دیا۔ دوسری طرف انھوں نے بلاشبہ ترجمے کے فن کی آب یاری کی جو زبان و بیان پر ان کے عبور کے علاوہ ان کی دن رات کی محنت، لگن اور توجہ سے ممکن ہوا۔
ماہرِ لسانیات اور مصنّف شاہد نے صلے و ستائش کی تمنا سے بے نیاز ہو کر کئی تراجم اردو دنیا کو دیے اور اس حوالے سے وہ فکشن نگار نیّر مسعود کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں:
میں نے جب بھی کوئی چھوٹا موٹا کام کیا، کبھی صلے کی توقع پر نہیں کیا۔ جب میں نے ’’وار اینڈ پیس‘‘ کا ترجمہ شروع کیا (میں نے یہ کام کیوں کیا، میرے پاس اس کی کوئی معقول توجیہہ نہیں۔ بس یوں سمجھیں کہ ایک قسم کا Obsession تھا)، مجھے معلوم تھا کہ مالی منفعت تو دور کی بات ہے، الٹا متعلقہ کتابیں اور دوسرا مواد اکٹھا کرنے کے لیے اپنی گرہ سے خرچ کرنا پڑے گا۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ اور بھی تھا، اور وہ تھا ترجمے کو چھاپنے کا۔ جس ناشر سے بھی بات کی اس نے کانوں کو ہاتھ لگایا، ’’ناں بابا، ناں۔ اتنی ضخیم کتاب اور وہ بھی ترجمہ (ترجمہ اس ملک میں گھٹیا کام سمجھا جاتا ہے)، ہم اپنا روپیہ ڈبو نہیں سکتے۔‘‘ میرے پبلشر کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ اس نے درسی کتابوں کے ناشر ہونے کے باوجود اسے چھاپنے کی ہامی بھری (اگر کتاب بک گئی تو شاید… کچھ نہ کچھ معاوضہ بھی دے ہی دے گا…) لیکن اس شرط پر کہ طباعت کی ساری ذمہ داری مجھے ہی اٹھانا ہوگی۔ چناں چہ کمپوزر کے پیچھے میں ہی بھاگتا رہا۔ پروف بھی خود ہی (چار مرتبہ) پڑھتا رہا، اپنی نگرانی میں غلطیاں درست کراتا رہا اور آخر میں پریس کے بھی چکر کاٹتا رہا اور ملا کیا؟…باذوق اور باعلم اصحاب کی تحسین۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ میرے لیے یہی کافی ہے۔’‘
29 جنوری 2018ء کو شاہد حمید انتقال کرگئے تھے۔ ان کی عمر 90 برس تھی۔ شاہد حمید لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ ان کی پیدائش جالندھر کی تھی۔ وہ 1928ء میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاہور آگئے جہاں گورنمنٹ کالج سے انگریزی میں ایم اے کیا اور تدریس کا پیشہ اختیار کیا۔ 1988ء میں بہ حیثیت مدرس ریٹائر ہوئے۔ فکشن کے تراجم ساتھ ان کا ایک اور اہم کام دو ہزار صفحات پر مشتمل انگریزی اردو لغت بھی ہے۔ انھیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے معروف نقاد شمیم حنفی نے کہا تھا: یقین کرنا مشکل ہے کہ ہزاروں صفحوں پر پھیلا ہوا یہ غیرمعمولی کام ایک اکیلی ذات کا کرشمہ ہے۔ ممتاز فکشن نگار نیّر مسعود نے انھیں ایک حیرت خیز آدمی قرار دیا تھا۔
مسعود اشعر نے مرحوم سے متعلق لکھا، "اس کی عملی زندگی کا آغاز تو ایک استاد کی حیثیت سے ہوا تھا۔ پاکستان آکر اس نے سب سے پہلے ایک اسکول میں ہی نوکری کی تھی۔ پھر وہ ایسا استاد بنا کہ کئی اخباروں میں کام کرنے کے باوجود ہمیشہ استاد ہی رہا۔ اس کے استاد ہونے کی یہ حیثیت اس کے ترجموں میں بھی نظر آتی ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں، وہ اپنے ترجموں کی وجہ سے ہی علمی اور ادبی حلقوں میں مشہور ہوا۔ لیکن یہ ترجمے ایسے نہیں جیسے دوسرے ترجمہ کرنے والے کرتے ہیں۔ یہ ایک استاد کے ترجمے ہیں۔ اب وہ ٹالسٹائی کے ناول وار اینڈ پیس کا ترجمہ ہو، یا دوستوسکی کے ناولوں برادر کرامازوف اور کرائم اینڈ پنشمنٹ کا، یا جین آسٹن کے ناول پرائڈ اینڈ پریجوڈائس کا، یہ صرف ترجمہ ہی نہیں ہے بلکہ ان ناولوں میں جہاں تاریخی واقعات کا حوالہ آیا ہے، یا عیسائی عقیدے کا ذکر ہے، یا پھر کسی علاقے کا بیان ہے، یا کسی تاریخی خاندان کے احوال ہیں، وہاں ترجمہ کر نے والا یہ استاد اپنے پڑھنے والے پر ہی نہیں چھوڑ دیتا کہ وہ خود ہی اس کے متعلق معلومات حاصل کرتا پھرے بلکہ وہ بڑی عرق ریزی سے تحقیق کرتا ہے اور پورے کے پورے صفحے حاشیوں سے بھر دیتا ہے۔”
شاہد حمید کو کلاسیکی لٹریچر کو اردو کے قالب میں ڈھالنے پر ملکہ حاصل تھا۔ انھوں نے ناولوں کی تاریخ کے تین بڑے شاہ کاروں کا ترجمہ کیا، جنھیں ناقدین نے معیاری اور نہایت معتبر ٹھہرایا۔ ان ناولوں کا ترجمہ کرنے میں انھوں نے کئی برس صرف کیے۔ انھوں نے جسٹس گارڈر کے ناول سوفی کی دنیا اور ہیمنگ وے کے شاہ کار ’’بوڑھا اور سمندر‘‘ کو بھی اردو کا روپ دیا۔
ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب بھی ’’گئے دن کی مسافت’‘ کے عنوان سے شایع ہوچکی ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


