بالی ووڈ کے معروف اداکار شاہد کپور کے ساتھی اداکار نے ٹوائلٹ پیپر بیچنے کے لیے عروج پر انڈسٹری چھوڑ دی۔
اداکار وشال ملہوترا نے شاہد کپور اور امریتا راؤ کے ساتھ کین گھوش کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’عشق وشک‘ سے ڈیبیو کیا لیکن درحقیقت انہوں نے کاروباری شخصیت کے طور پر اپنا نام روشن کیا۔
انہوں نے بالی ووڈ سے علیحدگی کے بارے میں اس وقت بات کی جب فلم سازوں نے انہیں مختلف قسم کے کردار دینے سے انکار کر دیا جو وہ کرنا چاہتے تھے، اداکار کے مطابق فلمساز انہیں ہیرو کے دوست کا ہی کردار دینا چاہتے تھے۔
انہوں نے سب سے پہلے اپنے پہلے بڑے بریک کے بارے میں ایک کہانی شروع کی اور کہا کہ "تقریباً 30 سال پہلے میں ایک کلاس بنک کر رہا تھا جب ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی میری طرف آئی۔
اداکار کے مطابق وہ لڑکی سیدھے میرے پاس آئی اور کہنے لگی ‘ہم اپنے چینل کے لیے چہرہ تلاش کر رہے ہیں، کیا آپ کو دلچسپی ہو گی؟’ مجھے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ آڈیشن کیا ہوتے ہیں، اور میں نے اگلے سال کے لیے آڈیشن دیا اور سلیکٹ ہوگیا۔
ملہوترا نے ’عشق وشک‘ کے بعد عمران ہاشمی کے ساتھ ’جنت‘ اور فلم ’قسمت کنکشن‘ میں اداکاری کی۔
یہ پڑھیں: شاہد کپور کا تعلق پاکستان کے کس شہر ہے؟
تاہم انہوں نے انڈسٹری چھوڑنے سے متعلق کہا کہ ’جب میں نے مختلف کردار کے لیے کہا تو اسے بڑے پروڈیوسر نے اپنی انا سمجھ لیا جس کے لیے میں تیار نہیں تھا، جب اس جیسا طاقتور شخص آپ کی صلاحیت کو مسترد کردے تو آپ ختم ہوجائیں گے، میرے پاس دو سال تک کوئی کام نہیں تھا اس کے بعد میں بہت خوفزدہ تھا۔‘
انہوں نے کہا کہ اس سب کے بعد میں نے کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا جو کیریئر کے لیے بھی منافع بخش ثابت ہوا۔
ملہوترا نے کہا کہ میں نے اپنی ایڈ ایجنسی کھولی اور بہت ساری اشتہاری فلمیں بنائیں، بھارت میں ریلائنس جیسی بڑی کمپنی کے ساتھ کاروبار کیا، میں انہیں ٹشو پیپر سے لے کر ٹوائلٹ رولز تک ہر قسم کے کاغذی مصنوعات فروخت کرتا تھا بعد میں، میں نے این ایف ٹی کو دریافت کیا۔
اداکار نے بتایا کہ کووڈ کے ختم ہوتے ہی بہت سے لوگوں نے مشورہ دیا کہ میں اپنے این ایف ٹی فروخت کردوں کیونکہ یہ افواہیں گردش کررہی تھیں کہ بھارتی حکومت کرپٹو کرنسی پر پابندی لگانے والی ہے، میں نے ان کے مشورے کو سنا اور عمل کیا جو کچھ مجھے واپس ملا وہ ایک اچھی رقم تھی پھر میں نے ہدایت کاری کی ’فیچر فلم ون ایل ایم جو دنیا کی پہلی فل مبن گئی جو مکمل طور پر این ایف ٹی کے ذریعے فنڈ کی گئی تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


