The news is by your side.

Advertisement

’’یہ جلد دیکھیں گے احتساب کا عمل کیا ہوتا ہےان کو جواب دینا پڑیگا‘‘

مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ یہ جلد دیکھیں گے کہ احتساب کا عمل کیا ہوتا ہے اور انکوجواب دینا پڑیگا۔

مسلم لیگ ن کے رہنما وسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں‌ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جلد دیکھیں گے کہ احتساب کا عمل کیا ہوتا ہے اور انہیں جواب دینا پڑیگا، کونساادارہ ہے یا وزارت ہے ہر جگہ اربوں روپے کی کرپشن ہے، آج ایف آئی اے اور نیب خاموش ہے لیکن کل وزرا کو سب کا سامنا پڑیگا۔

شاہد خاقان نے کہا کہ عدم اعتماد کو لٹکایا نہیں جاسکتا، ہمت ہوتی تو پہلےدن ہی اجلاس بلاتے، اسپیکرنے آئین توڑا ہے،1 دن میں اجلاس بلانا چاہیےتھا، لیکن وہ پہلےدن سے جانبداری کا مظاہرہ کر رہےہیں، جو آئین توڑیگا چاہے اسپیکر ہو، وزیراعظم ہو یا وزیر اسے آرٹیکل 6 کا سامنا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دن گنے جاچکے ہیں، جب وزیراعظم جلسوں پرآجائےتوسمجھ جاؤ کہ وہ جانے والا ہے، ہمت ہے تو میدان میں آؤ، یہ لوگ انہیں پرالزام لگارہےہیں جنہوں نے انہیں منتخب کیا تھا، عمران خان کو وہی لوگ نکالیں گے جنہوں نےمنتخب کیا تھا، حکومت کے اپنےارکان اوراتحادی ان سے تنگ ہیں اور اب اپنی جان ان سے چھڑانا چاہتے ہیں، فخرہےپورےعمل میں کوئی پیسےکا لین دین نہیں ہوا، کسی رکن نے وزارت مانگی نہ وعدہ کیا گیا۔

شاہد خاقان نے مزید کہا کہ آپ گالیاں نکال کرلوگوں پر4 سال تک الزامات لگاتے رہے، لیکن ثابت ایک بھی نہ کرسکے، ابھی بھی عمران خان کے پاس 4 دن ہیں، الزامات ثابت کرکے دکھا دیں، آج ملک میں منی لانڈرنگ کی واضح مثال فارن فنڈنگ کیس ہے، پاکستان کی بدترین حکومت عمران خان نے ملک کو دی، ڈیویلپمنٹ کاایک کام 4سال میں شروع نہ ہوسکا، پاکستان کےعوام مشکلات میں ہیں، مشکلات آئیں گی لیکن ہم اس کامقابلہ کریں گے، عوام کیلئےعدم اعتماد کےعمل کو آگے لے جا رہے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی وجمہوری عمل آئین کےمطابق ہو، یہ بلوچستان عدم اعتماد نہیں جہاں ساڑھے 3 ارب خرچ ہوئے، یہ آزادکشمیر یا جی بی کا الیکشن نہیں جہاں اربوں لگا کر حکومت بنائی گئی،پی ٹی آئی کاالیکشن نہیں جہاں اربوں روپےلگاکرعہدےحاصل کئے گئے،یہ کےپی کا الیکشن نہیں جہاں پیسے بانٹنے کی ویڈیو موجود ہے، سینیٹ کا الیکشن نہیں جہاں لوگوں نے اربوں روپے دیکر ٹکٹ حاصل کیے، یہ تحریک عدم اعتماد ہے اور اس میں فتح آئین کی ہی ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں