site
stats
پاکستان

کراچی و حیدرآباد میں اسپتال و یونیورسٹی قائم کی جائے گی، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد : وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ توانائی کے بحران پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں، متعدد منصوبے تکمیل کےآخری مراحل میں ہیں، کراچی و حیدر آباد میں ایک ایک اسپتال اور یونیورسٹی قائم کی جائے گی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا، خیال رہے کہ نو منتخب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ہرمنگل کو اپنی 47 رکنی وفاقی کابینہ کا اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی وزراء اور مشیران کی تعداد کے حوالے سے کہا کہ وفاقی حکومت کی 43 وزارتیں اور ڈویژنز ہیں اسی لیے کابینہ وزارتوں اورڈویژنز کو پیش نظر رکھ کرتشکیل دی گئی ہیں۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کابینہ کو اپنے حالیہ دورہ کراچی سے بھی آگاہ کیا اور کراچی کے لیے 25 ارب کے پیکج اور حیدر آباد کے لیے 5 ارب روپے کے پیکج کے اعلان کے حوالے سے بھی وفاقی کابینہ کو اعتماد میں لیا اور مختلف پروجیکٹس پر بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک اسپتال اور ایک میڈیکل کالج بنایا جائے گا اور اس کے علاوہ گرین لائن میٹرو بس سروس کی توسیع اور پانی کے نئے منصوبوں کیلئے بھی وفاق کی جانب سے وسائل فراہم کیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کو مذید بتایا کہ کراچی اور حیدرآباد میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کیلئے انڈرپاسز اور پل بنائے جائیں گے جب کہ کراچی کی طرز پر حیدرآباد میں بھی ایک میڈیکل کالج اور یونیورسٹی بنائی جائے گی اور انڈسٹریل اسٹیٹ میں انفرا اسٹرکچرکا نظام بہترکیا جائے گا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت سرکاری منصوبوں میں شفافیت اور معیار کو برقرار رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے چنانچہ قوی امید ہے کہ کراچی و حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ہونے والے منصوبے شفافیت کے ساتھ بروقت مکمل ہوں گے۔

علاوہ ازیں وزیراعظم نے کابینہ کوتوانائی کے منصوبوں پر بھی تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ توانائی کے متعدد منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور چوں کہ 2013 سے اب تک توانائی کی بچت کے منصوبوں پرتوجہ دی گئی ہے اس لیے امید ہے کہ لوڈشیڈنگ کا مقررہ وقت کے دوران خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top