The news is by your side.

Advertisement

ایل این جی کیس، شاہد خاقان عباسی نیب کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کےسامنے پیش

اسلام آباد: ایل این جی کیس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیب دفتر میں پیش ہوکرتمام سوالوں کے جواب جمع کرا دیئے، نیب نے شاہدخاقان عباسی کو بیان کے لیے آخری موقع دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ایل این جی کیس میں مسلم لیگ ن کے رہنما سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نیب راولپنڈی آفس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کےسامنے پیش ہوئے اور نیب کی جانب سے دیئے گیے سوالات کے جوابات تحقیقاتی افسران کے پاس جمع کروادیئے۔

ذرائع کے مطابق نیب کے سوالنامہ میں شامل اکثر سوالات کے جوابات شاہد خاقان عباسی پہلے ہی جمع کروا چکے ہیں، جن سوالات کے جوابات کے لیے سرکاری ریکارڈ درکار تھا، ان سوالات کے جوابات ریکارڈ ملنے کے بعد تیار کیے گئے تھے۔

روانگی سے قبل پیشی کے موقع صحافی کے سوال ”آج جلد واپسی ہو گئی، خوش ہیں ؟کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آپ کو مایوسی تو نہیں ہوئی ، صحافی کے ایک اور سوال ”سارے سوالوں کے جواب دے دیئے “کے جواب میں شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سوالوں کے جواب تو ایک ہی ذات دیتی ہے ،جب بلائیں گے آجائیں گے ۔

مزید پڑھیں :  ایل این جی کیس : سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام ای سی ایل میں شامل

اس سے قبل نیب دفتر پہنچنے پر صحافی نے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی سے سوال کیا 22سوالوں کےجوابات دےچکےآج کتنےجواب دیں گے ، جتنے سوال  پوچھیں گےاتنےجواب دوں گا، آج آپ کوگرفتاربھی کیاجاسکتاہے؟ جس پر شاہدخاقان عباسی نے کہا جی اگربٹھالیاتوبیٹھ جاؤں گا۔

صحافی نے سوال کیا نجی ایئرلائن کاریکارڈآپ سےطلب کیاگیاہے؟ سابق وزیراعظم نے کہا نہیں میراایئرلائن سےتعلق نہیں،ریکارڈبھی نہیں مانگاگیا۔

خیال رہے 5 اپریل کو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا تھا ، ایل این جی کیس میں قومی احتساب بیورو نے وزارت داخلہ سے ان کا نام ڈالنے کی سفارش کی تھی۔

نیب ذرائع کا کہنا تھا کیونکہ کئی بار ایسا ہوچکا ہے کہ خاقان عباسی کو نیب کی جانب سے طلبی کے نوٹس دیئے گئے لیکن ہر بار انہوں نے بیرون ملک ہونے کا بہانہ بنا کر پیشی سے معذرت کرلی تو اب ان کو بیرون ملک جانے سے روکنے کیلئے ان کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے جس کے بعد اب وہ بیرون ملک نہیں جا سکیں گے۔

خیال رہے قومی احتساب بیورو راولپنڈی کی جانب سے ایل این جی اسکینڈل کیس میں تحقیقات جاری ہیں، نیب کی جانب سے سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی کو بھی طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس سے قبل نیب کراچی نے یہ کیس بند کردیا تھا۔

جون میں من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ دینے کے الزام پر چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سابق وزرائے اعظم و دیگر کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی تھی، ترجمان نیب کے مطابق ملزمان پر من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 سال کے لئے ٹھیکے دینے، مبینہ طور پر ملکی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔

واضح رہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے دور حکومت میں سابق وزیرپٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے قطرکے ساتھ ایل این جی درآمد کے معاہدے پردستخط کیے تھے، جس کے تحت پاکستان ہرسال قطر سے 3.75 ملین ٹن ایل این جی خریدے گا جو کہ پاکستان کی قومی ضرورت کا کل 20 فیصد ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں