The news is by your side.

Advertisement

سیاسی جماعتیں اور ادارے مل کر فیصلہ کر لیں ملک کیسے چلنا چاہیے، شاہد خاقان عباسی

لاہور: سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ادارے مل کر فیصلہ کر لیں ملک کیسے چلنا چاہیے، ن لیگ کا بیانیہ ہے کہ ملک آئین کے مطابق چلنا چاہیے۔

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کاشف عباسی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں چاہتا ہوں حکومت کام کرے، لوگوں کے مسائل حل ہوں، موجودہ حکومت کے پاس کوئی وژن نہیں کوئی کام کرنے والا شخص نہیں، حکومتی وزرا ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا مسائل سے تعلق نہیں ہوتا، اسی لیے معیشت ڈوب رہی ہے، وہ زبان بند رکھیں تو مزید خرابی نہ ہو، مشکل ہے کہ حکومت 5 سال مکمل کر پائے۔

بہ طورِ وزیرِ اعظم چیئرمین نیب سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، پارلیمنٹ میں نیب قوانین سے متعلق بل آیا تو حمایت کریں گے

شاہد خاقان نے کہا کہ ن لیگ پر دباؤ ہے مگر پارلیمنٹ میں بات ہوگی اور مظاہرہ بھی ہوگا، ابراج گروپ ڈوبتا ہوا ادارہ ہے، شیئرز بیچنا چاہتے تھے ہم نے اجازت نہیں دی، اب ابراج نہیں ڈوبا تو ڈوب جائے گا، پورا معاملہ ان کے گلے آئے گا، ابراج اور کے الیکٹرک کے معاملے کی انکوائری ہونی چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ شہباز شریف کو امریکی اخبار کو نوٹس کرنا چاہیے، انھوں نے پیسے لیے یا نہیں، تفتیش کرلیں ابراج سے بھی پوچھیں، شہباز شریف رہا ہوں گے تو امریکی اخبار کو نوٹس بھی کر دیں گے، ابراج گروپ دنیا کی بہترین یوٹیلٹی کو اپنے شیئرز بیچنا چاہتا تھا۔

ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ دنیا میں لیڈر آف اپوزیشن کو کبھی گرفتار نہیں کیا گیا، نیب چیئرمین کبھی وزیرِ اعظم سے پوچھ کر کام نہیں کرتا، بہ طورِ وزیرِ اعظم چیئرمین نیب سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی، پارلیمنٹ میں نیب قوانین سے متعلق بل آیا تو حمایت کریں گے۔


یہ بھی پڑھیں:  غداری کا مقدمہ، نوازشریف، شاہدخاقان عباسی اور سرل المیڈا کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت


سابق وزیرِ اعظم نے چیف الیکشن کمشنر سے سوال کیا کہ پولنگ اسٹیشن کس کے کنٹرول میں تھے۔ انھوں نے کہا ’میں انتخابات میں ہارنے پر رونے دھونے و الا آدمی نہیں ہوں، 490 میں سے 100 سے کم فارم 15 دیے گئے کیا اسے دھاندلی نہ سمجھیں، ایک پولنگ اسٹیشن ایسا ہے جہاں ووٹوں کی گنتی میں 3 دن لگتے ہیں۔‘

اسحاق ڈار کا واپس نہ آنا ان کا اپنا فیصلہ ہے میں ان کی جگہ ہوتا تو واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرتا

شاہد خاقان عباسی نے مزید کہا کہ 2013 میں عمران خان کی شکایت تھی کہ انگوٹھے کے نشانات غلط ہیں، 2018 کا الیکشن شفاف ترین ہونا چاہیے تھا مگر یہ 2002 سے بھی بد تر نکلا، انتخابی عمل کو خراب کیا جائے گا تو ایسی حکومت نہیں چل پائے گی۔

انھوں نے کہا کہ معیشت کے اثرات ہر شعبے پر پڑتے ہیں، ہم 5.8 فی صد گروتھ پر معیشت چھوڑ کر گئے تھے، اسحاق ڈار نے پہلے3 سال ٹوٹی ہوئی معیشت کو سنبھالا دیا تھا، اسحاق ڈار کو انصاف کی توقع ہو تو وہ ملک میں واپس آجائیں گے، واپس نہ آنا ان کا اپنا فیصلہ ہے میں ان کی جگہ ہوتا تو واپس آ کر مقدمات کا سامنا کرتا۔

شاہد خاقان نے انٹرویو میں کہا کہ ماضی کی طرح گیم کھیلنے والے سیاست دانوں کا وقت ختم ہو چکا، آخری مارشل لا کو 10 سال گزر چکے اب تو کچھ سیکھ لیں، آج بھی ہم وہی کام کر رہے ہیں جو مارشل لا ادوار میں ہوتا رہا ہے، اداروں اور پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنا تباہی کا راستہ ہے، احتساب سب کا برابر ہونا چاہیے، پرویز مشرف کے سامنے صرف چند لوگ کھڑے ہوئے تھے، ہمارے گھروں میں آ کر جوتے تک گنے گئے تھے، ہم احتساب سے نہیں ڈرتے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں