The news is by your side.

Advertisement

معاشی حالات توقع سے زیادہ خراب ہیں، شاہد خاقان عباسی کا اعتراف

اسلام آباد : مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اعتراف کیا ہے کہ معاشی حالات توقع سے زیادہ خراب ہیں، کسی اور کی غلطیوں کی قیمت حکومت کو چکانا پڑے گی۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں احتساب کی حقیقت عوام کے سامنے آگئی ہے، حکومت کی ذمے داری ہے ، نیب کو ختم کرے گی، نیب کے ہوتے ہوئے ملک نہیں چل سکتا۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ توقع سے زیادہ حالات خراب ہیں، ہم نے مشاورت کی کہ حالات کیسے بہتر کیے جا سکتے ہیں۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہیں بڑھائی گئیں ، عوام کو ریلیف کی بڑی قیمت حکومت کو ادا کرنا پڑرہی ہے، کوشش ہے آئی ایم ایف سےطے معاملات چلتے رہیں اور چاہتےہیں عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج سیاست پس منظر میں اور معیشت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، سیاست میں غیر آئینی مداخلت کے خاتمے سے ہی مسائل کا حل شروع ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ معیشت کی بحالی مشکل سفر ہے خرابیاں اتنی بڑی ہیں، شہباز شریف صاحب محنت سے کام کر رہے ہیں، آج سب کو پاکستان کو اولین ترجیح دینی پڑے گی۔

شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ سیاسی اور دیگر مفادات کو پس پشت ڈالنا پڑے گا اور سب کو مل کر مسئلے کو حل کرنا ہوگا، کسی اور کی غلطیوں کی قیمت حکومت کو ادا کرنا پڑے گی۔

اسمبلیوں کی مدت کے حوالے سے سابق وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن چوری نہ ہوں صرف یہ انتخابی اصلاحات کرنی ہیں، اسمبلیوں کی مدت اتحادیوں کے فیصلوں پر ہی منحصر ہے ، بہت جماعتیں مل کر معاملے حل کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور اتحادیوں سے مل کر آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔

مہنگائی سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی ایک ماہ میں نہیں آتی،مہنگائی چار سال کا سفر ہے، عمران خان کی حکومت قرضے پر قرضے لیتے گئے پورا نظام بگاڑ دیا۔

نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے ن لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف کو ڈاکٹر کے اجازت دی یا وہ خود آنے کا فیصلہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈالر کا تعلق معیشت سے ہے،معیشت مضبوط ہوگی تو ڈالر کم ہوگا۔

عمران خان کے حوالے سے سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان پہلے جوبائیڈن کی کال کا انتظار کررہے تھے، اب پتہ نہیں عمران خان کس کی کال کے منتظر ہیں، اب بات کال سے آگے نکل گئی ہے اب کام کرنا ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں