site
stats
اہم ترین

بھارت نےمحدود جنگ کی پالیسی نہ بدلی تومنہ توڑ جواب ملےگا‘ وزیراعظم

Shahid Khaqan Abbasi

نیویارک: وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر بھارت نے ایل او سی کو پارکرنے کی کوشش کی یا پاکستان کے خلاف محدود جنگ کی پالیسی پرعمل درآمد کیا تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی سےاقوام متحدہ کے چارٹرپر باقاعدہ عملدرآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر کی عوام کو بھارتی ظلم وجبرکا سامنا ہے اور کشمیریوں کو ان کے ‌حق خودارادیت سے محروم رکھا جارہا ہے۔ بھارت نےمقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ فوج تعینات کررکھی ہے جو کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو طاقت کے ذریعے کچل رہی ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ بھارت جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے ایل او سی پر سیزفائر کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں بیلٹ گنوں کے استعمال اور دیگر جرائم سے روکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کومشرقی جانب سےہمیشہ خطرہ رہا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے رواں برس ایل اوسی پر 600 سے زائد بار سیزفائرکی خلاف ورزیاں کی جاچکی ہیں۔


وزیراعظم کا اقوام متحدہ سے مسئلہ کشمیرحل کرنےکا مطالبہ


وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی بند کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کی کسی بھی مہم جوئی یا کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اب ایک عالمی مسئلہ بن چکی ہے اور اسے اسی سطح پر ہی حل ہونا چاہیے لیکن دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ بھی نہایت ضروری ہے۔

وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوجی جوانوں سمیت 70 ہزار پاکستانیوں نے قربانیاں دیں اور 120 ارب ڈالرکا نقصان اٹھایا،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں پر کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالیں ہم افغان جنگ کوپاکستانی سرزمین پر لڑنے کی اجازت نہیں دیں گے اور نہ ہی پاکستان قربانی کا بکرا بنے گا۔


عالمی میڈیا پاکستان کی صحیح صورتحال نہیں دکھارہا، شاہد خاقان عباسی


وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے زیادہ افغانستان میں امن کا خواہاں کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ افغانستان میں امن کا مطلب پاکستان میں امن ہے۔

انہوں نے کہا افغانستان کے مسائل کا فوجی نہیں سیاسی حل ہےافغانستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں جو سرحد پار کرکے پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔

وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہا کہ روہنگیا میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ظلم وزیادتی کو دنیا دیکھ رہی ہے جہاں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔

انہوں نےکہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیےمئسلہ فلسطین کا حل بہت ضروی ہے جبکہ اسرائیل کا فلسطین پر قبضہ خطے میں تشدد کا سبب بن سکتا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ چین اورپاکستان کی دوستی معاشی ترقی کاراستہ ہے جبکہ پاکستان ون بیلٹ ون روڈ پروگرام کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیاں مستقبل میں انسانیت کےلیے بڑا خطرہ ہیں ان تبدیلیوں سےنمٹنےکے لیے پیرس معاہدے پرعملدرآمد ہونا چاہیے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے موقع پرقومی لباس زیب تن کیا ہوا تھا اور ان کے ہمراہ اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ملیحہ لودھی اور وفد کے دیگر اراکین بھی موجود تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top