کراچی (14 اکتوبر 2025): سابق وزیراعظم اور عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر شاہد خاقان عباسی نے بھی ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کی حمایت کر دی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں صوبوں کا نظام ناکام ہو چکا، اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں میں بادشاہت کا نظام رائج ہو گیا ہے۔
سینئر سیاستدان نے کہا کہ جب تک ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس نہیں بنیں گے، معاملہ نہیں چلے گا۔ یا تو صوبوں کے اندر انتظامی یونٹس بنائیں یا اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں، اس کے بغیر حل ممکن نہیں۔ تاہم جو بھی کام کرنا ہے وہ اتفاق رائے سے کیا جائے۔
سابق وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ کہا کہ اٹھارویں ترمیم کرنے والوں کی نیت اور سوچ درست تھی۔ مگر اس ترمیم پر عملدرآمد کرانے میں ناکامی ہوئی، جس کی وجہ سے صوبوں میں بادشاہت کا نظام رائج ہوگیا۔ اب جو صوبے کا وزیراعلیٰ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔
عوام پاکستان پارٹی کے کنوینر نے کہا کہ وفاق صوبوں کو آبادی کے لحاظ سے وسائل دیتا ہے۔ اگر صوبے وسائل کاصحیح استعمال نہ کریں تو مسائل جنم لیں گے۔ پیسے صرف وزیراعلیٰ کی خواہش پر نہیں، بلکہ تمام شہروں اور علاقوں میں برابر خرچ ہونے چاہئیں۔
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سندھ میں بیڈ گورننس اور کرپشن کی وجہ سے عوام کا جینا مشکل ہو چکا ہے۔ کراچی میں سڑکوں کی بری حالت، ٹینکر مافیا یہ اس شہر کی بدنصیبی ہے۔ 21 ویں صدی میں بھی شہر کے لوگوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ سندھ حکومت کو چاہیے کہ کراچی کے حالات پر توجہ دے اور یہاں کے شہریوں کو بھی سندھ کے دیگر علاقوں کی طرح برابری کے حقوق دیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چاروں صوبوں کے درمیان شکوک وشبہات بڑھ چکے ہیں۔ صوبوں کے درمیان الفاظ کی جنگ مفادات، اختیارات اور طاقت کی جنگ ہے۔ پاکستان صرف جمہوری اور پارلیمانی نظام کے تحت ہی چل سکتا ہے۔ کسی بھی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے، جو ملکی مسائل حل کرنے کی بات کرے گا اس کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں۔
نعیم اشرف بٹ اے آر وائی نیوز کے
تحقیقاتی صحافت کے ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ہیں


