The news is by your side.

Advertisement

عوام کی خواہش ہے جلد از جلد ریکوری ہو: شہزاد اکبر

اسلام آباد: وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ ایک ہی رقم کو چھپانے کے لیے ملٹی پل طریقے اختیار کیے جاتے ہیں، عوام کی خواہش ہے کہ جلد از جلد ریکوری ہو۔ نیب بھی قانون کے تحت اثاثے منجمد کر رہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عوام غریب سے غریب تر ہوتی گئی حکمران امیر ہوتے گئے، شہباز شریف کہتے ہیں میں لندن عدالتوں میں جانے کو بے قرار ہوں۔ لندن کی عدالتوں کی جانب سے ابھی تک کوئی لیٹر نہیں ملا۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ 90 کی دہائی میں ایک خاندان نے خوب مال بنایا، کچھ چیزیں ہمارے سامنے آچکی ہیں اور کچھ آنا باقی ہیں۔ مخصوص خاندان نے ہنڈی کے ذریعے پیسہ بنایا، یہ منی ٹریل دینے سے محروم رہے، پیسہ باہر بھیجا گیا۔

انہوں نے کہا کہ سلمان شہباز کی جائیداد 90 فیصد ٹی ٹی پر کھڑی ہے، حمزہ شہباز، بھائی اور بہنوں کی جائیدادیں بھی ٹی ٹی پر چل رہی ہیں۔ ٹی ٹی پر سارا معاملہ چل رہا تھا کہ پاناما لیکس سامنے آگئی۔ پاناما لیکس صرف پاکستان نہیں پوری دنیا کے لیے تھا۔ پاناما لیکس سے متعلق ایک جے آئی ٹی بنائی گئی۔ ہل میٹل کیس سے متعلق سامنے آیا 85 فیصد رقم نواز شریف کو جاتی ہے۔

شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ رقم ملنے کے بعد نواز شریف اپنی بیٹی مریم نواز کو گفٹ کرتے ہیں، جے آئی ٹی رپورٹس میں مریم نواز کی جانب سے کچھ رقم کی نشاندہی ہوئی۔ سنہ 2014 میں ہل میٹل سے رقم آئی اور مریم صفدر کے اکاؤنٹ میں گئی۔ 17 ملین کی ٹی ٹی جس پر مریم صفدر کے دستخط ہیں۔ اگلی ٹی ٹی 19 ملین کی آئی جو مریم صفدر کے اکاؤنٹ میں گئی، یہ وہ ٹی ٹی ہیں جو مریم صفدر سرمایہ کاری کی صورت بتاتی ہیں۔ 9.9 ملین کی ٹی ٹی بھی ہل میٹل سے آئی۔

انہوں نے کہا کہ میری ذمہ داری منی لانڈرنگ کیسز کو دیکھنا ہے، ہل میٹل کیس میں 2 ہفتے پہلے نیب کو ایک خط بھی لکھ دیا ہے، شریف فیملی کی جانب سے آج تک کوئی منی ٹریل نہیں آئی۔ ہل میٹل میں حسین نواز مالک ظاہر ہو رہا ہے۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے منافع سے بھی زیادہ رقم واپس آتی تھی۔ حسین نواز بڑے فرمانبردار تھے منافع سے زائد رقم ابو اور بہن کو بھجواتے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ اگلا جو بھی قدم اٹھانا ہے وہ نیب نے اٹھانا ہے، اس پر جو بھی چارہ جوئی کرنی پڑی کریں گے۔ ایک ہی رقم کو چھپانے کے لیے ملٹی پل طریقے اختیار کیے جاتے ہیں۔ جہاں پبلک آفس ہولڈر نہیں وہاں پر چیزیں سامنے لانی پڑتی ہیں۔ عوام کی خواہش ہے کہ جلد از جلد ریکوری ہو۔

انہوں نے کہا کہ نیب بھی قانون کے تحت اثاثے منجمد کر رہا ہے، قانون 2017 سے بنا تھا لیکن رولز نہیں تھے، اس قانون کے تحت جائیدادیں فوری طور پر ضبط ہوسکیں گی۔ ہمیں آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہے۔ اسحٰق ڈار کی پراپرٹی پر بھی قانون کے مطابق کام شروع ہوا ہے۔ 16 دن کا دورانیہ ہے اس کے بعد اختیار ہوتا ہے جائیداد ضبط کرلی جائے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں