site
stats
سندھ

شہزاد نواز کی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت

کراچی: پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین مصطفی کمال نے فنکاروں کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پرکہا ہےکہ’ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں‘۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، متحدہ قومی موومنٹ کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال پر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ بھوک ہڑتال لندن سے شروع ہونی چاہیے تھی‘‘۔

پاک سرزمین پارٹی سے سربراہ نے کہا کہ ’’آج کا دن ہمارے لیے بہت بڑا دن ہے، دنیا میں جہاں بھی کہیں پاکستانی ہیں وہ ہم سے رابطہ کر کے پی ایس پی کا حصہ بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج شوبز سے تعلق رکھنے ولے شہزاد نواز دیگر فنکاروں کے ہمراہ پاکستان بچانے کی اس تحریک کا حصہ بن رہے ہیں‘‘۔

مصطفی کمال کا کہنا تھاکہ ’’ہماری پارٹی دو لوگوں سے شروع ہوئی تھی مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمارے قافلے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور لوگ وطن کی بقاء کے لیے قافلے میں شامل ہورہے ہیں‘‘۔

مصطفیٰ کمال نے کہاکہ ’’جانور کے مرنے پر مذمتی ٹکر چلوانے والے بھارتی وزیر اعظم کے بیان پر کیوں خاموش بیٹھے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دیگر سیاسی پارٹیوں سے ہمارے اختلافات ہیں اور رہیں گے تاہم جن لوگوں کو ہم سے اختلاف ہے وہ بھی رکھیں یہی جمہوریت کا حسن ہے تاہم اس تمام تر صورتحال کے باوجود ہم اپنے سفر کو جاری رکھیں گے  کیونکہ  ہم کسی سے دشمنی نہیں چاہتے‘‘۔

چیئرمین پاک سرزمین نے کا کہنا تھاکہ ’’ملک بہت نازک صورتحال سے گزررہا ہے اور ہمیں اس کو نکالنے کے لیے ایک فارمولا طے کرنا ہوگا، ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں عوام کو بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں‘‘۔

اس موقع پر پاک سرزمین پارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے شوبز سے تعلق رکھنے والے شہزاد نوازکو پارٹی میں شمولیت پر مبارک باد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا، اس موقع پر شہزاد نواز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’22 کروڑ عوام مایوسی کا شکار نہیں بلکہ صرف چند لوگ مایوس ہیں، مجھے اپنے وطن سے بہت پیار اور پاکستانی ہونے پر فخر ہے‘‘۔

شہزاد نواز کا مزید کہنا تھا کہ ’’پاکستان کو ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو ملک میں انتشار کو ختم کریں اور عوام کو جوڑتے ہوئے اس کی بہتری کے لیے اقدامات کریں، یہ تمام خوبیاں ہم نے پاک سرزمین پارٹی میں دیکھیں اسی وجہ سے ہم آج اس کا باقاعدہ حصہ بن رہے ہیں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top