شاہ زیب قتل کیس: کب کیا ہوا؟ -
The news is by your side.

Advertisement

شاہ زیب قتل کیس: کب کیا ہوا؟

کراچی: شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کو مقتول کے اہل خانہ سے صلح کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد وکٹری کا نشان بنانے والے شاہ رخ جتوئی کو مہنگی گاڑیوں اور دوستوں کے پروٹوکول میں آج اسپتال سے لے جایا گیا۔
پانچ سال قبل پیش آنے والے شاہ زیب قتل کیس نے نہ صرف ملکی، بلکہ بین الاقوامی میڈیا کی توجہ بھی حاصل کی تھی، سول سوسائٹی حرکت میں آگئی، ملزم بیرون ملک فرار ہوگیا، مگر چیف جسٹس آف پاکستان کے سوموٹو ایکشن اور میڈیا اور عوامی دبائو کے بعد تفتیشی اداروں کو لامحالہ ایکشن لینا پڑا۔

اس رپورٹ میں اس کیس کا مختصر جائزہ لیا جارہا ہے۔

شاہ زیب قتل کیس : واقعات کی ترتیب

بیس سالہ شاہ زیب کے قتل کا واقعہ 25دسمبر 2012 کو پیش آیا، جب مقتول نے طاقت کے نشے میں چور ملزم اور اس کے دوستوں‌ کو اپنی بہن کو چھیڑنے سے روکا۔ بات جلد تلخ کلامی تک پہنچ گئی۔ ملزم نے اسلحہ بند ہو کر شاہ زیب کا تعاقب کیا اور فائرنگ کرکے اسے قتل کر دیا۔
واقعے کے بعد ملزم دبئی فرار ہوگیا. مقتول کے والد کی محکمہ پولیس سے وابستگی کے باوجود پولیس تفتیش سست روی کا شکار رہی۔
سول سوسائٹی واقعے کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ میڈیا نے اسے خصوصی اہمیت دی اور شاہ زیب کے لیے انصاف کا مطالبہ شدت اختیار کرنے لگا۔
عوام کے دبائو کے باعث بالآخر پولیس کو ملزم کو گرفتار کرنا پڑا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کےازخود نوٹس کے بعد یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چلا۔
کیس میں‌ اس وقت ڈرامائی موڑ آیا، جب مقتول کے والد کی جانب سے صلح کی خبریں‌ آنے لگیں اور دیت میں شاہ زیب کے والد کو ڈیفینس میں پانچ سو گز کا بنگلا، آسٹریلیا میں فلیٹ اور ستائیس کروڑ روپے ادا کرنے کی بات کی گئی۔
البتہ سپریم کورٹ نے اس صلح نامے کو تسلیم کرنے کے بجائے مقدمہ چلانے کا حکم دیا ۔ 7 جون 2013 کو قتل کا جرم ثابت ہونے پر شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کو سزائے موت اور پانچ، پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی. البتہ رواں‌ برس 28 نومبر کو سندھ ہائی کورٹ نے شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت کالعدم قرار دے دی۔ شاہ زیب کے والد نے بھی صلح کا حلف نامہ جمع کرادیا اور یوں شاہ رخ جتوئی کو آزادی مل گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں