The news is by your side.

Advertisement

‘ عمران خان جب اعلامیہ لہرا رہے تھے مجھے نہیں پتہ تھا اس قدر مقبول ہوگا ‘

سربراہ عوامی لیگ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ عمران خان جب اعلامیہ لہرا رہے تھے مجھے نہیں پتہ تھا یہ اس قدرمقبول ہوگا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوامی لیگ اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ عمران خان جب اعلامیہ لہرا رہے تھے مجھے نہیں پتہ تھا کہ یہ اس قدر مقبول ہوگا، بیس بائیس دن میں عمران خان کی ایسی بڑھتی ہوئی حمایت کبھی نہیں دیکھی، عمران خان اس وقت دنیا کی سپر پاور کیخلاف عوام میں گئے ہیں، عمران خان گھر گھر گھس گیا ہے ہر گھر میں اس کی ہی بات ہورہی ہے، کبھی سوچا نہیں تھا کہ عمران خان کی ایسی مقبولیت بھی ہوگی، ہم نےتو نہیں کہا کہ ہمیں کیوں نکالا جنہوں نے کہا دیکھیں وہ آج کہاں کھڑا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ لانگ مارچ کب کرنا ہے اس کا فیصلہ کل عمران خان کرینگے، وہ الیکشن کی تاریخ چاہتے ہیں جس کی وہ جدوجہد کررہے ہیں، عمران خان نے میری بات سنی ہےعمل کیا نہیں کیا ان کی مرضی ہے، 15 اور25 جون کےبعد پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا چاہیے، کیونکہ 9،10 جون کو بجٹ آجائے گا، پانچ دس دن میں سب چیزیں کھل جائیں گی، عمران خان کو تجویز دی ہے کہ 15 تا ریخ کے بعد کوئی فیصلہ کریں کل کی میٹنگ میں بھی یہی رائے دوں گا کہ 15 جون کے بعد فیصلہ کریں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ 14 مرتبہ گالی دے کر تعلقات بہتر کرسکتے ہیں تو ہم نے تو کسی کو گالی نہیں دی، شو پالش ایک ووٹ سے حکومت بنا سکتا ہے تو ہم نے کسی کا قتل نہیں کیا، ہمیں اداروں کیساتھ تعلقات بہتر رکھنے چاہئیں، برف پگھلانی چاہیے کوئی بری بات نہیں، گرم موسم اچھا نہیں ہوتا، میری طرف سے تعلقات اچھے ہیں دوسری طرف سے بھی خرابی نہیں، میرے تعلقات اتنے اچھے نہیں جتنے ہونے چاہئیں، اس عمر میں دونوں طرف کھیل کر دونوں کو خفا نہیں کرنا چاہتا۔

شیخ رشید نے کہا کہ آئی بی کی رپورٹ میں نےعمران خان کو پہنچائی تھی، آخری دن تک عمران خان کو اعتماد تھا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوگی، یہ بھی میں نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم وقت ضائع کررہی ہے آخر میں چھوڑ جائے گی، ہمارے لیے مشکلات تھیں لیکن موجودہ حکومت نے شے دی ہے، سازش عمران خان کے بجائے سامراج اور ان کے ہینڈلر کے گلے پڑگئی، ان حالات میں اے آر وائی نیوز قوم کی ترجمانی کررہا ہے، موجودہ حکومت ایک دو ووٹ کی بات ہے لیکن ہم نے ایک اسٹینڈ لے لیا ہے، عام انتخابات ہی اس وقت تمام مسائل کاحل ہے، اس وقت الیکشن کےعلاوہ کوئی دوسراراستہ نہیں ہے۔

 

سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ سے آرٹیکل63 اے کا تفصیلی فیصلہ رواں ماہ ہی آئے گا۔ میں نےتجویزدی تھی کہ موجودہ حکومت کو تسلیم کرلینا چاہیے، عمران خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، ہم عام انتخابات چاہتے ہیں، یہ لوگ عوام کیساتھ مذاق کررہے ہیں، جگ ہنسائی ہورہی ہے، صبح کانفرنس میں کہا شام کو مزید 25 روپے قیمت بڑھے گی، ن لیگ رہنما شیرعلی ہی کہتے ہیں رانا ثنااللہ22 افراد کا قاتل ہے، وزیرداخلہ کی پریس کانفرنس سارے لوگوں کو بھجوائی ہے، سب کو کہا ہے دیکھ لیں کیسی گفتگو کرتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس لانگ مارچ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا، جو پہلے مذاکرات ہوئے تھے اس میں ایک ادارے کے سربراہ بھی تھے، ادارے کے سربراہ کچھ دیر بعد چلے گئے پھر اسی ادارے کے ڈپٹی سربراہ تھے لیکن اس مذاکرات میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، عمران خان نے ان ہی مذاکرات پر کہا تھا کہ میں ٹرک کی بتی کے پیچھے نہیں لگوں گا، عمران خان نے لانگ مارچ ملتوی کرکے بہت ہی دانشمندی کا فیصلہ کیا، اسمبلی سے استعفے درست فیصلہ تھا،میں پی ٹی آئی کا ممبر نہیں لیکن پھر بھی اسمبلی سے استعفیٰ دیا، ایسی اسمبلی میں کیا بیٹھنا جہاں چور اچکوں کو حکومت دے دی جائے، دنیا ادھر کی ادھر ہوجائے عمران خان اس حکومت کو تسلیم نہیں کریگا۔

شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ نگراں حکومت کی مدت ہمیشہ بڑھ جاتی ہے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، آج بھی اخبارات میں الیکشن سے متعلق خبریں چھپی ہوئی ہیں، صف زرداری اور فضل الرحمان کےعلاوہ سب کہتےہیں الیکشن ہی حل ہے، ق لیگ سے متعلق میں سمجھتا ہوں گھر تقسیم ہوگیا ہے اور آئندہ ق لیگ قیادت ایک دوسرے کیخلاف الیکشن میں لڑتے دکھائی دے رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں