The news is by your side.

کیا عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کیلئے آپ پر دباؤ ہے؟ شیخ رشید کا حیران کن جواب

شیخ رشید سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں سوال پوچھا گیا کہ کیا آپ پر عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کیلیے دباؤ ہے، جس پر انہوں نے حیران کن جواب دیا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپوٹرز میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بہت ڈپریشن میں ہوں، مجھے اس وقت سیاسی نہیں بلکہ ملکی سلامتی کی فکر ہے، پاکستان میں ذمے داران کو بتانا چاہتا ہوں زمینی حالات بہت خراب ہیں۔

دوران پروگرام میزبان نے ان سے سوال کیا کہ کیا عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کیلیے آپ پر دباؤ ہے؟ جس پر شیخ رشید احمد نے وکھری انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس بات کو چھوڑیں زیادہ سے زیادہ جیل ہی جا سکتا ہوں، لیکن کچھ بھی ہو جائے میں عمران خان کیساتھ ہوں، پی ٹی آئی کا حصہ نہیں لیکن عمران خان کا ساتھی ہوں اور پاکستان کیلیے اس کے ساتھ کھڑا ہوں اور خوش ہوں کہ عمران خان کی شکل میں قومی قیادت موجود ہے اور اس کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ انتخابات کرائے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے سارے اتحادی چیخ رہے ہیں، اے این پی سلام کرگئی ہے، ملک کس طرف جارہا ہے، انارکی کے حل کیلئے الیکشن ناگزیرہیں اور اس وقت سارے مسائل کا حل صرف اور صرف الیکشن ہے جب نوازشریف بھی 14 مرتبہ نازیبا گفتگو کرکے صلح کرلیتا ہے، ہم تو اپنے اداروں کی عزت کرتے ہیں یہ ہمارے ادارے ہیں اور ان سے تعلقات بہتر کریں گے۔

شیخ رشید کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کی سیاست اس کے اپنے شہر میں دم توڑ گئی ہے اور یہ حکمرانی اب ان کے گلے پڑنے جارہی ہے جب کہ آصف زرداری اور فضل الرحمٰن مزے سے بیٹھے ہیں، آصف زرداری نے نواز شریف کی سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے، عمران خان کوہٹانے والوں نے حقیقت کو نہیں پرکھا، اس کو ہٹانے کی سزا قوم بھگت رہی ہے، نوازشریف اور اسحاق ڈار واپس آکر دیکھ لیں یہ ملک بدل چکا ہے عوام میں شعور آگیا ہے وہ اب دھاندلی بھی نہیں ہونے دیں گے، اگر دھاندلی کرانےکی کوشش کی گئی تو معاملات خانہ جنگی کی طرف جائیں گے۔

سربراہ عوامی مسلم لیگ نے کہا کہ پنجاب میں مجھے 20 نشستوں پر ضمنی انتخاب ہوتے نظر نہیں آرہے، اس سے قبل ہی جولائی میں سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ آنے کی امید ہے، 17 جولائی سے پہلے سب لوٹے فارغ ہوجائیں گے، جو حالات بن رہے ہیں الیکشن جلدی کرانا پاکستان کی ضرورت ہے، کیونکہ ہر گزرتا دن موجودہ حکمرانوں کے گلے کا پھندا بنتا جارہا ہے، اکتوبر میں انتخابات ہوتے دیکھ رہا ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں