The news is by your side.

Advertisement

حکومت سے بات چیت ہوسکتی ہے مگر؟ ۔۔۔ شیخ رشید کا دوٹوک جواب

راولپنڈی: سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے حکومت پر ووٹنگ لسٹوں میں ردبدل اور حلقہ بندیوں میں من مانی تبدیلیاں کرنے کا الزام عائد کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور راولپنڈی بینچ میں توہین مذہب سے متعلق قائم مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور ہونے کے بعد شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج عدلت نے ایک لاکھ روپے کی ضمانت کنفرم کی ہے اور چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے تمام کیسز کو یکجا کرنے کا حکم دیا ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ اسی سال میں الیکشن دیکھ رہاہوں، شہباز سےحکومت نہیں چل رہی، یہاں گڈ گورننس یا یہ حال ہے کہ ایک نے اپنے بیٹےکو وزیرخارجہ جبکہ دوسرے نے وزیراعلیٰ بنادیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ حکومت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے تو بات چیت ہوسکتی ہے، اس مطالبے کے بغیر عمران خان کسی سے بات نہیں کریگا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی جان کو خطرہ، بنی گالہ کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ حکومت ووٹر لسٹوں اور حلقہ بندیوں میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کر رہی ہے، یہ اپنےووٹ تبدیل کررہےہیں اور دوسرےحلقوں میں پھینک رہےہیں جو کہ کھلی دھاندلی ہے۔

اس سے قبل توہین مذہب سے متعلق دائر مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے شیخ رشید لاہور راولپنڈی بینچ میں پیش ہوئے، جسٹس محمد طارق ندیم نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے شیخ رشید ک ایک لاکھ مچلکے کے عوض ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی۔

واضح رہے کہ شیخ رشیدپر ملک کے سترہ شہروں میں توہین مذہب کےمقدمات درج ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں