بدھ, جنوری 21, 2026
اشتہار

شیلندر کا تذکرہ جن کے گیتوں میں زندگی کا ہر رنگ ملتا ہے

اشتہار

حیرت انگیز

تقسیمِ ہند کے بعد پاکستانی اور بھارتی فلم انڈسٹری کو بڑے محنتی اور باکمال نغمہ نگار میسر آئے جن کی فلموں کو نغماتی شاہکار کہا گیا۔ بھارتی سنیما کی بات کریں تو شیلندر ایسا نام ہے جس نے کشش انگیز دھیمے پن اور پُرکیف لوچ سے آراستہ نغمات شائقین کو دیے اور مقبولیت حاصل کی۔ شیلندر کا وصفِ نغمہ گری یہ تھا کہ اس میں زندگی کا ہر رنگ اور اس کا ہر پہلو اجاگر ہوتا ہے۔

بحیثیت نغمہ نگار شیلندر کے ساتھ موسیقار شنکر جے کشن اور فلم ساز و اداکار راج کپور کی جوڑی نے اپنے دور میں بولی وڈ میں دھوم مچا دی تھی۔ پچاس اور ساٹھ کے عشروں میں شیلندر نے متعدد ہندی فلموں کے نغمات تحریر کیے جنھیں لازوال شہرت ملی۔

شیلندر متحدہ ہندوستان کے شہر راولپنڈی میں 30 اگست 1923ء کو پیدا ہوئے۔ والد انڈین ریاست بہار کے شہر بھوج پور سے ملٹری اسپتال میں ملازمت کے لیے راولپنڈی آئے تھے اور یہیں‌ شیلندر نے آنکھ کھولی۔ چھوٹے تھے کہ والدہ چل بسیں۔ والد نے ان کا نام شنکر داس کیسری لال رکھا۔ شیلندر بھی ریلوے میں ملازم ہوگئے اور اکثر سفر میں رہتے تھے۔ اس دوران ان کا زیادہ تر وقت شاعری کرتے ہوئے گزارتا تھا۔ اس دور میں شیلندر بھی تحریکِ آزادی سے متاثر ہوئے اور اپنی شاعری سے آزادی، اور ہندوستانی لوگوں کی زندگی اور اس کے رنگوں کی ترجمانی کا کام لینے لگے۔ وہ جلسوں میں اپنی نظمیں پڑھتے اور آزادی کے متوالوں کا لہو گرمایا کرتے تھے۔ اسی زمانہ میں ایک جلسہ میں‌ فلم ساز راج کپور نے شیلندر کو گیت نگاری کی دعوت دی تھی۔ شیلندر ایک مشاعرے میں اپنی نظم ’جلتا ہے پنجاب‘ پڑھ رہے تھے، جب راج کپور کو ان کا انداز بہت پسند آیا۔ انھوں نے اپنی فلموں کے لیے نغمے لکھنے کی پیش کش کی مگر شیلندر اس وقت رضامند نہ ہوئے مگر تھوڑے عرصہ بعد راج کپور کی پیشکش قبول کر لی۔

بطور نغمہ نگار شیلندر نے اپنا پہلا گیت 1949ء میں فلم ’برسات‘ کے لیے ’برسات میں تم سے ملے ہم سجن‘ لکھا تھا۔ اسی فلم سے بطور موسیقار شنکر جے کشن نے بھی اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس فلم کے بعد راج کپور کی مشہور فلم ’آوارہ‘ ریلیز ہوئی جس کا گیت…’آوارہ ہوں، آوارہ ہوں، یا گردش میں ہوں، آسمان کا تارہ ہوں‘ ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ برصغیر کے کئی ممالک حتٰی کہ روسی ریاست اور چین تک میں‌ یکساں طور پر مقبول ہوا۔ یہ اُن جذبات کا اظہار تھا جنھیں شیلندر نے خود محسوس کیا تھا۔ شیلندر کے گیتوں میں مختلف کیفیات اس فطری انداز میں ملتی ہیں، گویا وہ خود نغمہ نگار پر بیت رہی ہوں۔ بعد میں بھی شیلندر نے راج کپور کے ساتھ کئی فلمیں کیں اور انقلاب اور محبت کے ایسے ترانے لکھے جن کو ہر طبقۂ عوام میں مقبولیت ملی۔

گیت نگاری کے بعد جب انھوں نے فلم ’تیسری قسم‘ کی شکل میں ایک کاوش کی تو ناکامی ان کا مقدر بنی اور یہ فلم باکس آفس پر کوئی ہلچل نہیں مچا سکی جس کا شلیندر کو شدید صدمہ ہوا۔ انھوں نے اس پر اپنی جمع پونجی لگا دی تھی اور اس ناکامی کے بعد شیلندر کو متعدد مرتبہ دل کا دورہ پڑا۔ 14 دسمبر 1966ء کو شیلندر چل بسے تھے۔ انھوں نے مختصر عمر پائی مگر اپنے فلمی کیریئر اور تخلیقی صلاحیتوں کی بنیاد پر آج بھی ان کا نام زندہ ہے۔ انھیں تین بار بہترین نغمہ نگار کا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ ان کی مشہور فلموں میں آوارہ، آہ، چوری چوری، اناڑی، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، سنگم، تیسری قسم، سپنوں کا سوداگر اور میرانام جوکر وغیرہ شامل ہیں۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں