The news is by your side.

اشیاء بدل بہن!

بعض لوگ کوئی نہ کوئی علّت پال لیتے ہیں۔ روشن بھی انہی میں سے ایک ہے جو بہنیں بنانے کی علّت کا شکار ہے۔ وہ اپنے اخلاص اور محبت کی تمام روشنی اپنی ایسی بہنوں میں منتقل کر کے بہت خوش نظر آتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ نئے اور ایسے انوکھے رشتے بنانا آسان مگر بنا کر نباہنا سہل نہیں ہوتا بلکہ یہ ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں ہوتی لیکن روشن، روشن ہی ہے جو اپنے کسی خیال پر تاریکی کا سایہ تک نہیں پڑنے دیتی بلکہ نام کی طرح اُس کی سوچ کی کرنیں بھی اپنے عمل سے روشنی بکھرتی رہتی ہیں۔

روشن کا کمال یہی ہے۔ وہ نبھانا خوب جانتی ہے۔ ہر نئی بہن سے غضب کا بہناپا ہوتا ہے اور اس سے بڑا ہنر ہے مساوی تقسیم کہ دیکھ کر تعجب ہی نہیں ہوتا بے اختیار داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ کسی سے سلوک میں رتی برابر بھی فرق نہیں کرتی۔ یہ فن تو ہماری روشن پر تمام ہے تمام۔

کسی محفل میں چلے جائیے اور وہاں روشن بھی ہوں تو ان کی کوئی نہ کوئی بہن ضرور نظر آجائے گی اور یوں بھی ہوتا ہے جب تک روشن گھر واپسی کی راہ پکڑتی ہیں ان کے دل میں ایک اور بہن کی آمد اور محبت کے چراغ روشن ہو چکے ہوتے ہیں۔ صرف دوپٹہ بدل بہنوں کی تعداد سات ہے اور بھی کئی اشیاء بدل بہنیں ہیں۔ بہت ہی حرافہ ہے میری یہ نند، روشن جس کا نام ہے۔ بَڑھیا دوپٹوں کے عوض اپنا معمولی دوپٹہ دے کر دوپٹہ بدل بہن بن کر سُرخرو ہو جاتی ہے۔

روشن کے گھر کبھی کسی تقریب میں چلی جاؤ، ان کی ایسی بہنوں کا میلہ ضرور لگتا ہے۔ ان کی اکثریت سے میری بھی شناسائی ہے۔ گزشتہ ماہ روشن کی ایسی ہی کئی بہنوں سے ملاقات ہوئی۔ ان میں ایک نیا چہرہ بھی نظر آیا جس پر روشن جی جان سے نثار ہو رہی تھیں۔ تعارف پر میں چونکی جب روشن نے کہا ’’بھابھی بیگم ان سے ملیے یہ میری ڈبہ بدل ہیں۔“

”اَیں کون سی بہن؟ مجھے اپنی سماعت پر کچھ شک سا گزرا۔ میری کیفیت دیکھتے ہوئے روشن نے بے ہنگم قہقہے لگاتے ہوئے داستانِ ملن یوں سنائی کہ ”بھابھی بیگم! ہُوا یوں کہ کل میں بازار گئی تھی، لان کے سوٹ لینے۔ عجلت میں ہمارے ڈبے بدل گئے۔ گھر آکر جو دیکھا تو میرا لیا ہوا ایک بھی سوٹ اس میں نہیں، بھاگم بھاگ بوتیک پہنچی۔ وہاں یہ بھی لشتم پشتم آ موجود۔ ہم نے ڈبوں کا تبادلہ کیا اور آن کی آن میں ہم ڈبہ بدل بہنیں بن گئیں۔“

اپنی نوعیت کے اس انوکھے ملن نے مجھے دنوں حیرت میں مبتلا رکھا۔ ابھی میں اس حیرانی سے سنبھل بھی نہ پائی تھی کہ روشن نے اپنے نئے بنگلے کی خوشی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا، جہاں دو خواتین روشن کی خصوصی توجہ کا مرکز تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی روشن لپک کر میرے پاس آئیں اور ان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ ”بھابھی بیگم! وہ جو سبز ساڑھی میں ہیں نا وہ میری بنگلہ بدل بہن ہیں جنھوں نے میرا وہ والا بنگلہ خریدا ہے اور وہ جو سرخ اور سفید پشواز میں بالکل انارکلی لگ رہی ہیں، اُن سے میں نے یہ والا بنگلہ خریدا ہے، آئیے آپ کو اپنی بنگلہ بدل بہنوں سے ملواؤں۔“

ابھی روشن نے قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ کسی کے فوری بلاوے پر اس کی جانب بڑھ گئی۔ میری بڑی بیٹی صفیہ اس معاملے میں پھوپھی پر گئی ہے۔ کمبخت کی صورت ہی نہیں حرکات بھی ددھیالی ہیں، دوسری روشن ہے۔ ابھی صرف سولہ برس کی ہے اور تین اشیاء بدل بہنیں بنا چکی ہے۔ جانے آگے جا کر کیا گل کھلائے گی۔ میری تو ابھی سے طبیعت گھبرانے لگی ہے۔

اور پھر اس وقت رفیعہ بیگم جو روشن کی بھابھی ہیں، ان کی روانی سے چلتی ہوئی زبان رک گئی۔ ان کی چھوٹی بھابھی نے بھری محفل میں انہیں آئینہ دکھا دیا تھا۔

”آپا جان آپ کی زبان کو تو لگام ہی نہیں، میرٹھ کی قینچی بھی کیا تیز چلتی ہوگی جیسی آپ کی زبان چلتی ہے۔ بیچاری روشن باجی کو بہنیں بنانے کا شوق ہی تو ہے اور تو کوئی برائی نہیں۔“

”ہاں بیٹا ایک ہی شوق ہے اور وہ بھی ایسا کہ جو ”لاعلاج مرض“ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔“ رفیعہ نے کہا۔

”آپا جان اس میں بُرائی ہی کیا ہے؟ روشن باجی دل کی بہت اچھی ہیں، انہوں نے کبھی کسی کی برائی نہیں کی اور سنا تو میں نے یہی ہے کہ روشن باجی کے اس شوق نے ہی توآپ کو اُن کی بھابھی بنایا ہے۔ نہ روشن باجی آپ کو کتاب بدل بہن بناتیں اور نہ ہی آج آپ اُن کی بھابھی کہلاتیں۔ نہ آپ پہلی مرتبہ بہن بنانے پر اُن کی حوصلہ افزائی کرتیں نہ روشن باجی اس شوق کو پروان چڑھاتیں، اب بھگتیے۔“

”ہاں بیٹا بھگت ہی تو رہی ہوں اور جانے کب تک بھگتوں گی، وہ کتاب تو آج تک نہ پڑھی جس کے بدلے پہلے ان کی بہن اور پھر بھاوج بنی، لیکن روشن کے بھیا کی کتاب زیست پڑ ھ پڑھ کر عاجز آگئی، اتنا اُلجھاؤ کہ اللہ میری توبہ۔ ہائے کیا بھلی کتاب تھی جو روشن نے مجھ سے بدلی تھی، اس کا سرورق بھی تو ڈھنگ سے نہیں دیکھ پائی تھی۔ اور وہ کتاب جو روشن نے مجھے دی تھی، بھابھی بناتے ہی مجھ سے ہتھیا لی۔ ہائے میری چالاک نند میں کتنی بھولی تھی۔“

رفیعہ خاموش ہوئیں تو اُن کی بھابھی نے اُنہیں ماضی بعید سے ماضی قریب میں لاتے ہوئے کہا، ”آپا جان آپ نے بھی تو مجھے بیٹی بنا کر بھابھی بنا ڈالا مگر میں تو بُرا نہیں منایا۔ ہائے میں کتنی معصوم تھی۔“

چھوٹی بھاوج کی شرارت پر جو اُنھیں، مثل بیٹی کے عزیز تھی رفیعہ بیگم مسکرا دیں تو روشن جو جانے کب سے وہاں کھڑی ان مکالموں سے لطف اندوز ہو رہی تھیں مسکراتے ہوئے آگے بڑھیں اور ”بھابھی بیگم! بہن نہیں ہیں“ کہہ کر اُن سے لپٹ گئیں۔ رفیعہ بھی ہنس دیں۔

”وہ تو میں ہوں بلکہ حرفِ اوّل تو میں ہی ہوں، مجھے پہلی مرتبہ دیکھتے ہی تمہارے دل میں بہن بنانے کی ہڑک اُٹھی تھی۔ اللہ تمہارے اس شوق میں دن دگنی رات چوگنی ترقی دے، مگر اللہ کے واسطے اپنی بھتیجی کو اس علت سے نجات دلا دو۔ تمہاری احسان مند رہوں گی۔“

”بھابھی بیگم! یہ ممکن نہیں کیونکہ ہفتہ بھر پہلے جو لڑکی ہماری صفیہ کی دوپٹہ بدل بہن بنی تھی، کل اس کی امی آئی تھیں صفیہ کے لیے۔ گھرانا بہت اچھا ہے اور لڑکا بھی۔“ روشن کے انکشاف پر رفیعہ کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ یعنی؟ ’جی ہاں بھابھی بیگم تاریخ خود کو دہرا رہی ہے، بس جغرافیہ بدل گیا ہے۔“

”اللہ کی رضا یہی ہے تو میں کیا کرسکتی ہوں، پَر صفیہ کو سمجھا دو کہ شادی کے بعد جو جی چاہے کرے، جتنی چاہے اشیاء بدل بہنیں بنائے ابھی تو مجھے بخش دے۔“

رفیعہ بیگم نے ہاتھ جوڑدیے تو روشن کھلکھلا کر ہنس دیں۔ ”امی بھی تو مجھ سے یہی کہتی تھیں، میں نے بھی جی بھر کر بھراس نکالی۔“

”اور تمہاری طبیعت ابھی تک نہیں بھری۔“ بھابھی بیگم نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو وہ ہنس دی، ”ارے بھابھی اشیاء بدل بہن بنا کر تو دیکھیں، کتنا لطف آتا ہے ایسے رشتے ناتے جوڑنے میں۔ ابھی ابھی میری ایک کیبل بدل بہن بنی ہیں آپ تو جانتی ہیں… مجھے ”مصالحہ“ کی چاٹ پڑی ہے اور انھیں ”ذائقہ“ کا لپکا ہے۔ وہ پڑوسی ملک کے ڈراموں کی دیوانی ہیں اور مجھے پاکستانی ڈرامے بھاتے ہیں، اس لیے آج سے ہم کیبل بدل بہنیں بن گئی ہیں۔“

روشن اطلاع دے کر آگے بڑھی تو میں سرد آہ بھر کر رہ گئی۔ اس کے علاوہ میں کر بھی کیا سکتی ہوں، اپنی کرنی تو مجھے بھرنی ہی ہے۔ نند کے ساتھ ساتھ اب بیٹی بھی تو اس راہ کی مسافت طے کر رہی ہے۔

(مضون نگار اور فیچر رائٹر شائستہ زرّیں کے قلم کی شوخی)

Comments

یہ بھی پڑھیں