ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

مشاعرہ الٹ دینے کا دعویٰ‌ کرنے والے شکیل بدایونی کا تذکرہ

اشتہار

حیرت انگیز

فلمی دنیا میں جن شعرا کو بے حد شہرت ملی اور ان کے فلمی گیتوں نے مقبولیت کا ریکارڈ قائم کیا، شکیل بدایونی انہی میں سے ایک تھے۔ ہندوستان اور پاکستان میں نہ صرف ان کے فلمی نغمات ہر ایک کی زبان پر رہے، بلکہ شکیل بدایونی کو مشاعروں کا بھی کام یاب شاعر مانا جاتا ہے۔

شکیل بدایونی 20 اپریل سنہ 1970ء میں ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئے تھے۔ آج ان کی برسی ہے۔ ان کی تدفین ممبئی میں باندرہ کے ایک قبرستان میں کی گئی تھی۔ بدقسمتی سے آج ان کی قبر کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔

شکیل بدایونی کے فلمی نغمات اور ان کی غزلیں‌ کئی بڑے اور اپنے وقت کے نام ور گلوکاروں نے گائی ہیں۔ آج بھی ان کا کلام باذوق افراد بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ شکیل بدایونی نے فلم’ ‘درد‘ سے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا تھا۔ اس سے قبل وہ مشاعروں‌ میں‌ اپنی غزل گوئی کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔ شکیل صاحب 3 اگست سنہ 1916ء کو اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں‌ پیدا ہوئے۔ ان کا گھرانا مذہبی تھا۔ والد ممبئی کی مسجد میں خطیب اور پیش امام تھے۔ یوں شکیل بدایونی کی ابتدائی تعلیم اسلامی مکتب میں ہوئی اور وہ خاص ماحول میں پروان چڑھے۔ اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم کے بعد بدایوں کے ایک ہائی اسکول سے تعلیم مکمل کی اور 1932ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ وہاں سے بی ۔ اے کی ڈگری لینے کے بعد 1942ء میں شکیل بدایونی سرکاری ملازمت حاصل کرنے میں کام یاب ہوگئے اور دہلی چلے آئے۔

شکیل بدایونی نے علی گڑھ کے زمانے میں‌ شاعری کا آغاز کردیا تھا۔ رئیس المتغزلین جگر مراد آبادی ان کے سرپرست بن گئے اور اپنے ساتھ مشاعروں میں لے جانے لگے۔ ممبئی اس وقت فلمی دنیا کا مرکز تھا۔ شکیل بدایونی نے اسی زمانہ میں فلمی گیت نگار کے طور پر قسمت آزمائی اور کام یاب ہوگئے۔ یہ 1946ء کی بات ہے جب ان کے ایک دوست نے ان کی ملاقات مشہور فلم پروڈیوسر اے آر کاردار سے کروائی۔ شکیل کو کام مل گیا اور پھر انھوں نے ایک سو بھی زائد فلموں کے لیے گیت نگاری کی۔ سپر ہٹ فلم مغل اعظم کا گانا ‘پیار کیا تو ڈرنا کیا، ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی شکیل بدایونی کے تحریر کردہ تھے جو بہت مقبول ہوئے۔ شکیل بدایونی نے فلمی شاعری کے ساتھ غزل گوئی بھی جاری رکھی اور ان کی غزلیات کے مجموعے نغمۂ فردوس، صنم و حرم، رعنائیاں، رنگینیاں، شبستاں کے عنوان سے شائع ہوئے۔ شکیل کے کئی اشعار زبان زد عام ہوئے۔ ایک شعر دیکھیے:

میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی
ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے

شکیل بدایونی کی غزلیں بھی فلموں میں شامل کی گئیں اور انھیں بھی بہت پسند کیا گیا۔ ان کا یہ کلام ملاحظہ کیجیے:

اے محبت ترے انجام پہ رونا آیا
جانے کیوں آج ترے نام پہ رونا آیا
یوں تو ہر شام امیدوں میں گزر جاتی تھی
آج کچھ بات ہے جو شام پہ رونا آیا
جب ہوا ذکر زمانے میں محبت کا شکیل
مجھ کو اپنے دل ناکام پہ رونا آیا

اس دور میں عظیم موسیقار نوشاد اور شکیل بدایونی کے اشتراک سے متعدد سپر ہٹ گیت سامنے آئے جن میں فلم ‘’میلہ‘ کا ’یہ زندگی کے میلے‘، ’سہانی رات ڈھل چکی نجانے تم کب آؤ گے‘ ، ’میرے محبوب تجھے میری محبت کی قسم‘، اڑن کھٹولہ شامل ہیں۔ نوشاد کے بعد شکیل نے موسیقار روی کے لیے گیت لکھے جو بے حد مقبول ہوئے، فلم چودھویں کا چاند کے ٹائٹل گیت’چودھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو‘ پر 1961 میں شکیل بدایونی کو پہلا فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا تھا۔

شکیل بدایونی کی آپ بیتی ’میری زندگی‘ کے عنوان سے شایع ہوئی تھی جس میں‌ وہ حفیظ صاحب سے متعلق ایک جگہ رقم طراز ہیں: برخوردار، آج کے مشاعرے میں کون سی غزل پڑھو گے؟ میں (شکیل بدایونی) نے عرض کیا، ایک تازہ غزل لکھی ہے۔ انھوں نے کہا، ’سناؤ تو ذرا۔‘ میں نے غزل کا مطلع پڑھا:

اندازِ مداوائے جنوں کام نہ آیا
کوشش تو بہت کی مگر آرام نہ آیا

حفیظ صاحب نے فرمایا کہ ’عزیزِ من، اگر یہ غزل کسی استاد کو سنا دی جاتی تو کہیں سے کہیں پہنچ جاتی۔‘ میں نے کہا ’حفیظ صاحب، اگر میں اسی غزل پر مشاعرہ نہ الٹ دوں تو نام نہیں۔ چنانچہ شب کو گورنر ہیملٹ کی صدارت میں مشاعرہ ہوا اور میں نے وہی غزل پڑھ کر بے پناہ داد حاصل کی۔‘

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں