بنگلادیش کے سابق کپتان شکیب الحسن کو معزول وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سالگرہ پر پیغام دینا مہنگا پڑ گیا۔
بنگلادیش کے اسپورٹس ایڈوائزر آصف محمود نے بنگلادیش کو رپورٹ کردیا، شکیب الحسن آئندہ بنگلادیش کے لیے نہیں کھیل سکیں گے۔
کرکٹر نے ردعمل میں کہا کہ سابق وزیراعظم کی وجہ سے مجھے نشانہ بنایا گیا ہے، بنگلادیش سے پیار ہے ایک دن ضرور وطن لوٹوں گا۔
واضح رہے کہ شکیب الحسن کا کرکٹ کیریئر بھی تنازعات کا شکار رہا ایک لوکل میچ میں انہوں نے امپائر کی جانب سے اپیل مسترد ہونے پر وکٹیں اٹھا کر پھینک دی تھیں۔
View this post on Instagram
رواں سال مارچ میں سابق کپتان اور مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی جماعت عوامی لیگ کے ٹکٹ پر منتخب سابق رکن قومی اسمبلی شکیب الحسن کے خلاف قانون کا شکنجہ سخت ہوگیا تھا اور عدالت نے کرکٹر کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم جاری کر دیا تھا۔
یہ پڑھیں: شکیب الحسن کیخلاف شکنجہ سخت، اثاثے ضبط کرنے کا حکم
شکیب الحسن نے 2016 میں بنگلادیش میں ستکھیرا میں ایک کیکڑے کا فارم بنایا تھا، جو 2021 سے غیر فعال ہے۔ شکیب کی اس کمپنی نے بینک سے لیا تھا جس کی ادائیگی کے چیکس ناکافی فنڈز کی وجہ سے باؤنس ہو گئے تھے۔
ڈھاکا کے ایڈیشنل چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ ضیا الدین رحمان نے شکیب الحسن کو چیک باؤنس کیس میں جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیدیا۔
اکتوبر 2024 میں بنگلادیشی بینک نے باؤنس ہونے والے چیکس کے معاملے پر قانونی نوٹس جاری کیا تھا اور بعد میں 24 دسمبر کو شکیب اور ان کی کمپنی کے 3 دیگر عہدیداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


