The news is by your side.

Advertisement

داعشی لڑکی کی برطانوی شہریت منسوخ، اہل خانہ کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

لندن : برطانوی حکومت نے داعشی لڑکی شمیمہ بیگم کی شہریت منسوخ کردی، دہشت گرد لڑکی کے اہل خانہ نے حکومتی اقدام کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔

تفصیلات کے مطابق شام و عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والی تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی نے کچھ دن قبل برطانیہ لوٹنے کی خواہش کا اظہارکیا تھا، برطانوی حکومت نے داعشی لڑکی کی برطانوی شہریت منسوخ کردی ہے۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ شمیمہ بیگم کے والدین نے بیٹی کی برطانوی شہریت منسوخ کیے جانے کے خلاف کورٹ میں اپیل کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکن ہے داعشی میں شامل ہونے والی 19 سالہ لڑکی نے برطانوی شہریت ترک کردی ہو کیوں وہ کسی بھی ملک کی شہریت لے سکتی تھی۔

وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد خاتون کی برطانوی شہریت شواہد کی بنیاد پر منسوخ کی گئی ہے، گزشتہ دنوں وزیر داخلہ ساجد جاوید واضح طور پر کہا تھا کہ ’میری پہلی ترجیح برطانیہ اور برطانوی شہریوں کی سیکیورٹی اور حفاظت ہے‘۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ شمیمہ بیگم کا خیال ہے کہ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق بنگلا دیش سے ہے لیکن ان کے پاس بنگلادیشی پاسپورٹ نہیں ہے اور انہوں نے کبھی بنگلادیش کا سفر بھی نہیں کیا۔

مزید پڑھیں : داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی ، گھر لوٹنے کی خواہش مند

یاد رہے کہ برطانوی داعشی لڑکی نے بتایا تھا کہ ’میں فروری 2015 اپنی دو سہیلیوں 15 سالہ امیرہ عباسی، اور 16 سالہ خدیجہ سلطانہ کے ہمراہ گھر والوں سے جھوٹ کہہ کر لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ سے ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی تھی جہاں سے ہم تینوں سہلیاں داعش میں شمولیت کے لیے شام چلی گئی تھیں‘۔

شمیمہ بیگم اب ایک پناہ گزین کیمپ میں زندگی گزار رہی ہے اور وہ اپنے نومولود بیٹے کی خاطر واپس برطانیہ لوٹنا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں : انتہا پسندی کی طرف مائل ہونے والی شمیمہ کو ایک موقع دینا چاہیے، سابق داعشی خاتون

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ کسی کو شمیمہ سے ہمدردی نہیں ہے لیکن تانیہ جویا مذکورہ لڑکی کی مشکلات کے معتلق سب کچھ جاتنی ہیں، سابق داعشی خاتون تانیہ نے کہا کہ 19 سالہ لڑکی حاملہ لڑکی کو اپنے بچے کے ہمراہ برطانیہ لوٹنے کا موقع دینا چاہیے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ تانیہ جویا امریکا سے تعلق رکھنے والے داعش کے سینئر دہشت گرد جون کی اہلیہ تھیں جو اب مکمل طور پرسماجی بحالی کے عمل سے گزرچکی ہیں اوراب اپنے دوسرے شوہر کے ہمراہ خوشحال زندگی گزار رہی ہیں۔

واضح رہے کہ داعش کے ساتھ گزارے گئے دنوں میں شمیمہ کے دو بچے پیدا ہوکر ناقص طبی سہولیات اور ناکافی غذا کے سبب موت کے منہ میں جاچکے ہیں، اوراب وہ اپنے تیسرے بچے کی زندگی کے لیےبرطانیہ واپس آنا چاہتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں