The news is by your side.

Advertisement

داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی شمیمہ کی جان کو خطرہ

دمشق : برطانوی نژاد داعشی لڑکی شمیمہ بیگم کو قتل کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد شامی پناہ گزین کیمپ سے الحول کیمپ منتقل کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق شام و عراق میں دہشتگردانہ کارروائیاں کرنے والی تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی نے داعش کی شکست کے بعد واپس برطانیہ لوٹنے کی خواہش اظہار کرنے پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جارہی تھی۔

برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ شمیمہ بیگم کو داعشی خلافت اور پناہ گزین کیمپ سے متعلق اپنی حالت زار بتانے کے بعد جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہورہی ہیں۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ 19 سالہ ماں شمیمہ کو اس کے نومولود بچے کے ہمراہ عراقی سرحد کے قریب واقع الحول کیمپ میں منتقل کردیا گیا ہے تاکہ ماں اور بچے کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔

داعشی لڑکی کے اہل خانہ کے وکیل کا کہنا ہے کہ اہل خانہ کی جانب سے برطانوی حکام سے گزارش کی جارہی ہے کہ شمیمہ کو برطانیہ آنے کی اجازت دی جائے، لیکن اگر وہ شام جانے پر برطانوی قانون کی توڑنے میں ملوث پائی گئی تو اسے مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید پڑھیں : داعش رکن شمیمہ بیگم برطانیہ لوٹیں تو مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا، ساجد جاوید

برطانیہ کے وزیر داخلہ ساجد جاوید نے داعشی لڑکی کی برطانیہ لوٹنے کی خواہش پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اگر 19 سالہ شمیمہ بیگم واپس برطانیہ آئیں تو انہیں مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا‘۔

برطانوی وزیر داخلہ نے شمیمہ بیگم کی برطانوی شہریت منسوخ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمیں یاد رکھنا چاہیے جس نے بھی داعش میں شمولیت اختیار کرنے کےلیے برطانیہ چھوڑا تھا وہ ہمارے ملک کا وفا دار نہیں ہے‘۔

انہوں نے شمیمہ بیگم کو مخاطب کرکے کہا کہ ’اگر تم نے واہس آنے کی تیاری کرلی ہے تو تم تفتیش اور مقدمے کا سامنا کرنے کےلیے تیار رہوں‘۔

مزید پڑھیں : داعش میں شمولیت اختیار کرنے والی برطانوی لڑکی ، گھر لوٹنے کی خواہش مند

یاد رہے کہ برطانوی داعشی لڑکی نے بتایا تھا کہ میں فروری 2015 اپنی دو سہلیوں 15 سالہ امیرہ عباسی، اور 16 سالہ خدیجہ سلطانہ کے ہمراہ گھر والوں سے جھوٹ کہہ کر لندن کے گیٹ وک ایئرپورٹ سے ترکی کے دارالحکومت استنبول پہنچی تھی جہاں سے وہ تینوں سہلیاں داعش میں شمولیت کے لیے شام چلی گئی تھیں۔

شمیمہ بیگم نے بتایا کہ شامہ شہر رقہ پہنچنے کے بعد ہم تینوں کو ایک گھر میں رکھا گیا جہاں شادی کےلیے آنے والے لڑکیوں کو ٹہرایا گیا تھا۔

مذکورہ لڑکی کا کہنا تھا کہ ’میں درخواست کی میں 20 سے 25 سالہ انگریزی بولنے والے جوان سے شادی کرنا چاہتی ہوں، جس کے دس دن بعد میری شادی 27 سالہ ڈچ شہری سے کردی گئی جس نے کچھ وقت پہلے ہی اسلام قبول کیا تھا‘۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں