تاریخ و ادب، فن و ثقافت کے کئی اہم موضوعات پر حکیم شمسُ اللہ قادری کی کتابیں مستند و وقیع کام اور بیش قیمت سرمایہ ہے۔ حکیم شمس اللہ قادری ایک بلند پایہ محقّق، مؤرخ اور ماہرِ آثارِ قدیمہ کی حیثیت سے برصغیر میں پہچانے گئے۔ آج شاذ ہی ان کا تذکرہ ہوتا ہے، لیکن نئی نسل کو جاننا چاہیے کہ تاریخ نویسی، فن و ادب اور ثقافت کے شعبہ میں انھوں نے کیسی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
حکیم صاحب ایک ذہین، نہایت قابل اور وسیع المطالعہ شخص تھے جنھوں نے تصنیف و تالیف کا کام اس محنت، لگن اور خوبی سے انجام دیا کہ ہم عصروں میں انھیں امتیازی حیثیت حاصل ہوئی۔ حکیم صاحب نے اپنی علمی قابلیت، تحقیقی صلاحیت اور بصیرت سے کام لے کر اُردو تاریخ نویسی کو نئی طرز عطا کی۔ ان کی دیگر علوم و فنون سے گہری واقفیت نے تاریخ نگاری میں گہرائی اور صحیح نتائج تک پہنچنے کی وہ صلاحیت پیدا کر دی جو انھیں عام مؤرخین سے جدا کرتی ہے۔ قدیم ادب پر تحقیقی کام کے علاوہ شمس اللہ قادری نے بحیثیت مؤرخ، محقق، ماہر آثار قدیمہ، ماہر سکہ جات، ایڈیٹر، مترجم اور مؤلف خوب کام کیا۔ دکنی زبان و ادب کی تاریخ علمی و ادبی کے علاوہ مخطوطہ شناسی، وضاحتی فہارس کتب و مخطوطات ان کا خاص میدان رہے۔ ان موضوعات پر انھوں نے بکثرت مضامین لکھے اور مقالے تحریر کیے جو بالخصوص مختلف عہد کے مطالعہ کا شوق رکھنے والوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ قادری صاحب کے مقالے ’اردوئے قدیم‘ کو ان کی زبردست تحقیقی کاوش اور ایک کارنامہ کہا جاتا ہے۔ حکیم شمس اللہ قادری نے ایک سہ ماہی رسالہ ’تاریخ‘ بھی جاری کیا تھا جو اس میدان میں ان کی ازحد دل چسپی اور اس موضوع سے ان کے گہرے لگاؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کے وسیع مطالعے اور ان کے کام میں تحقیقی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا سلیمان ندوی، مولانا عبدالحق اور پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی جیسی شخصیات انھیں واثقہ شخصیت مانتی تھیں اور اپنی تحریروں کے لیے بغرضِ اصلاح رابطہ اور ان کے علم سے استفادہ کیا کرتی تھیں۔
حکیم سید محمد شمس اللہ قادری نے 5 نومبر 1885ء کو ہندوستان کی ایک مرفّہ الحال ریاست حیدر آباد دکن میں آنکھ کھولی۔ یہ وہ ریاست رہی ہے جہاں کے نظام میر عثمان علی خاں بھی اردو زبان اور علم و ادب سے محبّت کرنے والے انسان تھے۔ حکیم صاحب دکن کے ایک علاقے لال باغ میں پیدا ہوئے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ذوق و شوق کی بدولت علم و ادب سے متعلق سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے اور دکن کے نظام کے زیر سرپرسی طباعت و اشاعت کے کاموں میں مشغول رہے۔
حکیم شمسُ اللہ قادری کو ‘دکنیات’ کا پہلا محقّق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ سنہ 1913ء تک ادارہ فرانسیسی ہندی تاریخ اور رائل ایشیاٹک سوسائٹی برطانیہ و آئرلینڈ کے اعزازی ممبر بھی رہے۔ 1925ء میں انھوں نے سہ ماہی رسالہ تاریخ شایع کیا تھا۔ ان کی کتاب اردوئے قدیم کو اردو زبان کی تاریخ کی ابتدائی و بنیادی کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے سیکڑوں علمی، تاریخی، تحقیقی اور ادبی مقالہ جات مختلف جرائد و رسائل میں شائع ہوئے۔ ہندوستان میں اسلامی ادوار پر ان کی متعدد تحقیقی کتب کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔ انھوں نے عربوں کے ہندی تعلقات کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اسے اپنے قلم سے موضوع بنایا۔ اسی طرح ہندوستان میں اسلامی دور کے زوال کے اسباب کو واضح کیا۔ اردو زبان میں سب سے پہلے تاریخی ادوار کی عمدگی سے تشریح اور تحقیقی انداز سے پیش کرنے کی وجہ سے انھیں ’شمسُ المؤرخین‘ کا خطاب دیا گیا۔
بلاشبہ وہ ایک منجھے ہوئے محقق اور محتاط تاریخ داں تھے۔ حکیم صاحب متعدد زبانوں کا علم رکھتے تھے۔ اردو کے علاوہ ان کے مقالات عربی، ہندی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، روسی اور جرمن زبانوں زبانوں میں بھی شائع ہوئے۔ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں سے عرب و فارس کے تاجروں کی آمد، ان راستوں پر انھوں نے گہرائی سے تحقیق کی جب کہ سمندری راستوں سے سری لنکا، انڈونیشیا، مالدیپ، چین اور افریقہ کے روابط پر بھی ان کا تحقیقی کام نہایت اہمیت کا حامل ہے۔
شمس اللہ قادری کی ایک عمدہ کاوش اپنے دور کی کئی نایاب و فراموش کردہ کتب پر تحقیقی کام اور مقالہ جات کی اشاعت ہے۔ یہ مضامین انھوں نے اپنے سہ ماہی رسالے تاریخ میں شایع کیے۔ حیدرآباد دکن کے نظام میر عثمان علی خان کے فرمان پر ان کا بہت سا کام سرکاری سطح پر کتابی شکل میں شایع کروایا گیا جب کہ 1930ء میں ان کی ادبی و علمی خدمات کے عوض خطیر رقم سے بھی نوازے گئے اور ڈیڑھ سو روپے ماہانہ وظیفہ تاحیات پایا۔ بلاشبہ اس گوہرِ نایاب کی خوب خوب قدر دکن میں ہوئی اور تاریخ کا دامن اس خزانے سے بھرتا رہا۔
حکیم شمس اللہ قادری 22 اکتوبر 1953ء کو دکن ہی میں انتقال کرگئے تھے۔ ان کی کتابوں میں تاریخ مشاہیرِ ہند، جواہرُ العجائب، سکہ جاتِ اودھ، النقود الاسلامیہ، ملیبار، ملیبار سے عربوں کے تعلقات، مسکوکاتِ قدیمہ، پرتگیزان مالابار، قاموس الاعلام اور تاریخ دکن شامل ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


