The news is by your side.

حکیم شمسُ اللہ قادری:‌ ایک گوہرِ‌ نایاب کا تذکرہ

حکیم شمسُ اللہ قادری نے کئی نایاب اور اہم موضوعات پر کتابیں‌ یادگار چھوڑی ہیں جو انھیں ایک بلند پایہ محقّق، مؤرخ اور ماہرِ آثارِ قدیمہ کی حیثیت سے ممتاز کرتی ہیں۔ وہ ایک ذہین، نہایت قابل اور وسیع المطالعہ شخصیت تھے جنھوں نے تصنیف و تالیف کے ساتھ اپنے ذوق و شوق کی بدولت علمی میدان میں ایک الگ پہچان بنائی۔

تاریخ و ادب پر حکیم شمس اللہ قادری کے تحریر کردہ کئی مضامین اور مقالے ان مضامین میں بالخصوص طلبہ کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔ قادری صاحب کے مقالے ’اردوئے قدیم‘ کو ان کی زبردست تحقیقی کاوش اور ایک کارنامہ کہا جاتا ہے۔ حکیم شمس اللہ قادری نے ایک سہ ماہی رسالہ ’تاریخ‘ بھی جاری کیا تھا جو اس میدان میں ان کی ازحد دل چسپی اور اس موضوع سے ان کے گہرے لگاؤ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ ان کے وسیع مطالعے اور ان کے کام میں تحقیقی معیار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولانا سلیمان ندوی، مولانا عبدالحق اور پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی جیسی شخصیات انھیں واثقہ مانتی تھیں اور مختلف موضوعات پر ان سے مشورہ اور استفادہ کیا کرتی تھیں۔

حکیم سید محمد شمس اللہ قادری نے 5 نومبر 1885ء کو ہندوستان کی ایک مرفّہ الحال ریاست حیدر آباد دکن میں‌ آنکھ کھولی جس کے حکم راں بھی اردو زبان اور علم و ادب سے محبّت کرنے والے تھے۔ حکیم صاحب اس ریاست کے ایک علاقے لال باغ میں پیدا ہوئے تھے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنے ذوق و شوق کی بدولت علم و ادب سے متعلق سرگرمیوں میں مشغول ہوگئے اور طباعت و اشاعت کے کاموں سے تاعمر واسطہ رکھا۔

حکیم شمسُ اللہ قادری کو ‘دکنیات’ کا پہلا محقّق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ سنہ 1913ء تک ادارہ فرانسیسی ہندی تاریخ اور رائل ایشیاٹک سوسائٹی برطانیہ و آئرلینڈ کے اعزازی ممبر بھی رہے۔ 1925ء میں انھوں نے سہ ماہی رسالہ تاریخ شایع کیا تھا۔ ان کی کتاب اردوئے قدیم کو اردو زبان کی تاریخ کی ابتدائی و بنیادی کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے سیکڑوں علمی، تاریخی، تحقیقی اور ادبی مقالہ جات مختلف جرائد و رسائل میں شائع ہوئے۔ ہندوستان میں اسلامی ادوار پر ان کی متعدد تحقیقی کتب کو بھی بہت اہمیت حاصل ہے۔

حکیم شمسُ اللہ قادری نے عربوں کے ہندی تعلقات کو باریک بینی سے اجاگر کیا اور ہندوستان میں اسلامی زوال کے اسباب کو واضح کرنے کی بھرپور سعی کی۔ اردو زبان میں سب سے پہلے تاریخی ادوار کی عمدگی سے تشریح اور تحقیقی انداز سے پیش کرنے کی وجہ سے انھیں ’شمسُ المؤرخین‘ کا خطاب دیا گیا۔

اس میں کچھ شبہ نہیں ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے محقق اور محتاط تاریخ دان تھے۔ وہ متعدد زبانوں‌ کا علم رکھتے تھے۔ اردو کے علاوہ ان کے مقالات عربی، ہندی، فارسی، انگریزی، فرانسیسی، روسی اور جرمن زبانوں زبانوں میں بھی شائع ہوئے۔ جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں سے عرب و فارس کے تاجروں کی آمد، ان راستوں پر انھوں نے گہرائی سے تحقیق کی جب کہ سمندری راستوں سے سری لنکا، انڈونیشیا، مالدیپ، چین اور افریقہ کے روابط پر بھی اپنی تحقیق کو کتابی شکل میں پیش کیا اور یہ اہم اور معلوماتی کام ہے۔

شمس اللہ قادری نے کئی نایاب اور فراموش کردہ کتب پر مضامین و مقالے اپنے سہ ماہی رسالے تاریخ میں شایع کیے۔ حیدرآباد دکن کے نظام میر عثمان علی خان کے فرمان پر ان کا بہت سا کام سرکاری سطح پر کتابی شکل میں شایع کروایا گیا جب کہ 1930ء میں ان کی ادبی و علمی خدمات کے عوض خطیر رقم سے بھی نوازے گئے اور ڈیڑھ سو روپے ماہانہ وظیفہ تاحیات پایا۔ بلاشبہ اس گوہرِ‌ نایاب کی خوب خوب قدر دکن میں ہوئی اور ان کا کام بھی شایع ہوتا رہا۔

22 اکتوبر 1953ء کو حکیم شمس اللہ قادری نے وفات پائی تھی۔ ان کی کتابوں میں‌ تاریخ مشاہیرِ ہند، جواہرُ العجائب، سکہ جاتِ اودھ، النقود الاسلامیہ، ملیبار، ملیبار سے عربوں کے تعلقات، مسکوکاتِ قدیمہ، پرتگیزان مالابار، قاموس الاعلام اور تاریخ دکن شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں