The news is by your side.

مزاح گو شاعر اور نثر نگار شمسُ الدّین بلبل کا تذکرہ

تقسیمِ ہند سے قبل سندھ دھرتی کی عالم فاضل شخصیات، مذہب و ملّت، ادب اور فنون میں ممتاز اور نامی گرامی لوگوں کا تذکرہ ہو تو ان میں شمسُ الدّین بلبل کا نام ضرور لیا جائے گا جو ادب اور صحافت میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ آج ان کا یومِ وفات ہے۔

شمسُ الدّین بلبل سے عام قارئین ہی نہیں، علم و ادب سے شغف رکھنے والے بھی شاید ہی واقف ہوں۔ آئیے ان کی زندگی اور ادبی و صحافتی خدمات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

شمس الدّین بلبل کا مطالعہ بہت وسیع تھا۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں سندھی، فارسی، اردو اور عربی زبانوں میں ہزاروں کتب موجود تھیں۔

شمسُ الدّین بلبل 21 فروری 1857ء کو میہڑ میں پیدا ہوئے تھے جو سندھ کے مشہور ضلع دادو کا علاقہ تھا۔ 1919ء ان کی زندگی کا آخری سال ثابت ہوا۔ وہ 13 ستمبر کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ شمسُ الدّین نے اس دور کے دستور کے مطابق فارسی، عربی اور اردو زبان سیکھی۔ میہڑ سے ابتدائی تعلیم مکمل کرکے 1889ء میں حسن علی آفندی جیسے نادرِ روزگار کے پاس کراچی پہنچے اور انھیں اپنی قابلیت سے متاثر کرنے میں کام یاب ہوئے اور ان کی ادارت میں ایک ہفتہ وار اخبار معاون جاری ہوا۔ اس اخبار کی وساطت سے جناب بلبل نے سندھ مدرسۃُ الاسلام اور سندھ محمڈن ایسوسی ایشن کے لیے مؤثر خدمات انجام دیں اور حسن علی آفندی کا دست و بازو ثابت ہوئے۔ دکن ایگری کلچر ریلیف ایکٹ کے سلسلے میں انھوں نے حسن علی آفندی کی بڑی مدد کی، اس کے بعد ہی سندھ میں زمین داری بچاؤ کے لیے دکن ریلیف ایکٹ کا اطلاق ہوسکا تھا۔

جب حسن علی آفندی نے اس دنیا سے منھ موڑ لیا تو شمس الدین بلبل نے کراچی چھوڑ دیا اور اپنے آبائی قصبے میہڑ آگئے جہاں وہ گھر سے اخبار کی ادارت اور تدوین کا کام انجام دینے لگے۔ بعد میں کراچی گزٹ کے ایڈیٹر ہوگئے، لیکن وہ ابتدا ہی میں بند ہو گیا۔ اسی طرح لاڑکانہ کے اخبار خیر خواہ کے مدیر رہے اور روزنامہ الحقّ، سکھر کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے۔ بعد میں سکھر ہی کے مشہور روزنامہ آفتاب کے مستقل ایڈیٹر بنے۔

شمس الدین بلبل نے سب سے پہلے طنز و مزاح کو سندھی شاعری میں ذریعۂ اظہار بنایا۔ وہ خوش فکر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ طرز نثر نگار بھی تھے۔ ان کی تحریریں ظرافت آمیز اور پُرمذاق ہوتی تھیں، اور اخبار و رسائل میں ان کے مضامین پڑھنے والوں میں خاصے مقبول تھے۔ شمس الدّین بلبل نے سندھی زبان کی بڑی اصلاح کی اور اپنے مضامین کے ساتھ کئی تصانیف سے سندھی ادب کو مالا مال کیا۔

1906ء میں بلبل صاحب نے اپنے آبائی علاقہ میہڑ میں مدرسۃُ الاسلام کی بنیاد رکھی جو ان کی زندگی ہی میں اے وی اسکول کے درجے تک پہنچ چکا تھا۔ 1907ء میں جب آل انڈیا ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا اور اس میں فارسی زبان کو سرکاری محکموں میں رائج کرنے کی قرارداد پیش ہوئی تو انھوں نے اس کی تائید میں تقریر کی جسے فصاحت و بلاغت کا بہترین نمونہ کہا گیا۔ اس تقریر پر بلبل نے ہندوستان کے بڑے بڑے اکابرین سے داد اور ستائش سمیٹی جب کہ نواب وقارُ الملک نے انھیں خاص طور پر داد دی اور بہت تعریف کی تھی۔

شمس الدّین بلبل مزاح گو شاعر تھے، اور فارسی اور سندھی زبان میں کلام کہتے تھے، لیکن ان کی نثری تصانیف کی تعداد زیادہ ہے۔ ان کی چند تصانیف میں بہارِ عشق کے نام سے دیوانِ بلبل (سندھی)، عقل اور تہذیب، مسلمان اور تعلیم، قرض جو مرض، صد پند سود مند، دیوان بلبل (فارسی)، آئینہ ظرافت اور گنجِ معرفت شامل ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں