نئی دہلی (26 نومبر 2025): شنگھائی ایئرپورٹ سے ایک بھارتی خاتون کو واپس بھیجے جانے پر چین اور بھارت آمنے سامنے آ گئے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں مقیم ایک بھارتی خاتون پیما وانگجوم تھونگ ڈوک نے دعویٰ کیا ہے کہ چینی حکام نے شنگھائی ایئرپورٹ پر انھیں جاپان جانے سے روکا، ہراساں کیا اور گرفتار بھی کر لیا۔
خاتون نے کہا کہ انھیں امیگریشن کی لائن سے باہر نکالا گیا کیوں کہ ان کے پاسپورٹ پر جائے پیدائش کا مقام اروناچل پردیش لکھا تھا۔ چینی حکام نے کہا یہ بھارت نہیں چین کا حصہ ہے، آپ اس پاسپورٹ پر سفر نہیں کر سکتیں۔ پیما وانگجوم نے یہ بھی کہا کہ انھیں 18 گھنٹوں کے لیے حراست میں رکھا گیا۔
آرمینیا نے بھارتی لڑاکا طیارے تیجس خریدنے سے انکار کردیا
بعد ازاں بھارتی سفارت خانے کی مداخلت پر خاتون کو واپس لندن بھیج دیا گیا، اس واقعے نے دہلی اور بیجنگ کے درمیان سفارتی تنازع کو ہوا دی ہے، بھارتی سفارتخانے نے اس رویے کے لیے چین سے احتجاج بھی کیا۔
دوسری طرف ترجمان چینی دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ خاتون سے قوانین کے مطابق سلوک کیا گیا ہے، انھیں نہ تو ہراساں کیا گیا اور نہ ہی گرفتار کیا گیا، خاتون بار بار کہتی رہی کہ اروناچل پردیش بھارت کا حصہ ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔


