site
stats
خیبر پختونخواہ

افغانی خاتون شربت گلہ لئی کو ملک بدر کرنے کے احکامات واپس

پشاور : کے پی کے حکومت نے افغانی خاتون شربت گلہ لئی کو ملک بدر کرنے کے احکامات واپس لے لیے۔ ملک بدر نہ کرنے کی سفارش پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے کی تھی، مذکورہ خاتون کو دیگر افغان مہاجرین کی طرح پاکستان میں رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سبز آنکھوں سے شہرت پانے والی افغانی خاتون پاکستان سے کہیں نہیں جائے گی۔ شربت گلہ لئی کے ملک بدری کے احکامات واپس لے لیے گئے، وزیراعلیٰ کے پی کے پرویز خٹک کے ترجمان شوکت یوسف زئی کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی تک شربت گلہ یہیں رہیں گی۔

افغان مہاجرین مارچ تک پاکستان میں رہ سکتے ہیں، افغان مہاجرین جب واپس جائیں گے توشربت گلہ بھی واپس جائے گی، شوکت یوسفزئی نے کہا کہ افغان حکومت نے رابطہ کیا تھا کہ شربت گلہ کو ڈی پورٹ نہ کیا جائے، کیونکہ ان کی صحت ٹھیک نہیں ہے اورعمران خان نے وزیر اعلیٰ کے پی کے کو فون کر کے درخواست بھی کی تھی۔ جس پر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ہوم ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت کی تھی کہ جس کے تحت ڈی پورٹ کرنے کے احکامات کو روک دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شربت گلہ بی بی بیمار ہیں، افغانستان میں علاج کی سہولتیں نہیں ہیں، شربت گلہ نے زندگی پاکستان میں گزاری ہے۔ انسانی ہمدری کے تحت محکمہ داخلہ نے ڈیپورٹ کرنے کا معاملہ روک دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کی روشنی میں وفاقی حکومت سے بھی معاملہ اٹھایا جائے گا، یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرصوبائی حکومت سے شربت گلہ کو ملک بدرنہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

شربت گلہ کو جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے پرپندرہ روز قید اور ایک لاکھ دس ہزار روپے جرمانے کی سزا ہوئی تھی اور ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ شربت گلہ لئی کی قید کی سزا بدھ کے روز ختم ہو رہی ہے۔

علاوہ ازیں اس حوالے سے صوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس وقت عدالت کے حکم پر عمل کیا جا رہا ہے لیکن جب شربت گلہ کو وطن واپس بھیجنے کے لیے صوبائی حکومت کے حوالے کیا جائے گا تو اس وقت وہ وفاقی حکومت سے رابطہ کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام ہے کیونکہ کسی افغان مہاجر کی رجسٹریشن ہو یا انھیں یہاں روکنے کا معاملہ یہ سب وفاقی حکومت فیصلہ کرے گی۔

اس سے پہلے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے بھی شربت گلہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے مقدمے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر سنا جائے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top