The news is by your side.

Advertisement

شریف برادران کا سیاسی جنازہ اٹھنے والا ہے، ڈاکٹرطاہرالقادری

لاہور : پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ شریف برادران کا سیاسی جنازہ اٹھنے کے قریب ہے مارچ میں تدفین ہوجائے گی، مجھے حق نہیں ہے کہ سیاسی جماعتوں سے استعفے کا کہوں۔

یہ بات انہوں نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ لاہور مال روڈ جلسے میں اسٹیج پرمشاورت کرکے دو روز میں میٹنگ کی بات کی تھی۔

جلسے کے بعد کچھ دوست مصروف ہوگئے تھے، سیاسی فضا میں کچھ وائرس آگیا تھا اس لئے وقفہ دینا پڑا، قصور واقعہ اور راؤانوار کے ایشو کے باعث ہماری بات مؤخر ہوگئی۔

سربراہ پی اے ٹی نے کہا کہ احتجاج کرنے میں کسی کے محتاج نہیں جب کرنا ہوا باآسانی کریں گے اور محض 48 گھنٹے کے نوٹس پر خود مال روڈ بھرسکتے ہیں، ہمارےپاس عوام کا سمندر ہے، کسی کے محتاج نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جلسے میں استفعوں سے متعلق آپشن پر بھی تبادلہ خیال ہواتھا لیکن میں یہ حق نہیں رکھتا کہ سیاسی جماعتوں سے کہوں کہ ان کے اراکین اسمبلی مستعفی ہوجائیں۔

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے لیڈرز آج مجھ سے ملنےآرہے ہیں، سیاسی آلودگی کا اندیشہ نہیں، کسی سیاسی جماعت کو الزام نہیں دیتے۔

انہوں نے کہا کہ 62 ون ایف کے کیس میں کئی سیاسی جماعتیں فریق ہیں، اس کیس میں شاید ایک پٹیشن ہماری بھی ہے، صادق اورامین سے متعلق سپریم کورٹ نے میری رائےمانگی تو دوں گا، ماضی میں ہونے والے کئی کیسز میں سپریم کورٹ میری رائے لےچکی ہے، جو شخص صادق اور امین نہ رہے اس کی نااہلی تاحیات ہوتی ہے۔

طاہرالقادری کا مزید کہنا تھا کہ شریف برادران اور راناثناءاللہ سمیت ن لیگ کی پوری ٹیم ملک کے خلاف سازش ہے، راناثناءاللہ اپنی بات پر قائم رہیں، سازش تو ہورہی ہے اور یہی لوگ سازشی ہیں، شریف برادران کے ہوتے ہوئے ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں آسکتی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ شریف برادران کی سیاسی زندگی کی آخری رسومات ہیں یہ لوگ اپنے سیاسی جنازے کو شادی کے طور پر منارہے ہیں، ان کاسیاسی جنازہ اٹھنے کےقریب ہے،کندھے دیئےجارہے ہیں، مارچ میں تدفین ہوجائےگی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر ضرور شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں