site
stats
پاکستان

احتساب عدالت میں شریف خاندان 28 نومبر کو دوبارہ طلب

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم صفدر اور داماد کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوگئے جہاں ان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسزکی احتساب عدالت میں سماعت ہورہی ہے۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔

پیشی کے لیے نواز شریف، ان کی دختر مریم نواز، اور داماد کیپٹن (ر) صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوگئے ہیں۔ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث بھی احتساب عدالت میں موجود ہیں۔

گزشتہ سماعت پر نواز شریف کی جانب سے ایک ہفتے کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا کہ اہلیہ کے علاج کے لیے لندن جانا ہے، غیر موجودگی میں ان کے نمائندے ظافر خان پیش ہوں گے۔

دوسری جانب مریم نواز نے بھی نمائندہ مقرر کرنے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی تھی۔

نیب کی جانب سے استثنیٰ کی مخالفت کی گئی تاہم عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی دونوں درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو 7 روز جبکہ مریم نواز کو 1 ماہ کا استثنیٰ دے دیا۔

نواز شریف استثنیٰ ختم ہونے کے بعد جبکہ مریم نواز عدالتی استثنیٰ ملنے کے باوجود عدالت میں پیش ہوئی ہیں۔


حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں میں تبدیلی کی درخواست

آج کی سماعت میں نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواستوں میں تبدیلی کی درخواست دائر کردی گئی ہے۔

مریم نواز نے ایک ماہ کی حاضری سے استثنیٰ کی مدت میں تبدیلی کی درخواست جمع کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ حاضری سے استثنیٰ کی مدت 5 دسمبر سے 5 جنوری کی جائے۔


خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی

احتساب عدالت میں سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر میں گرما گرمی ہوگئی۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ گواہ کو کنفیوژ کیا جا رہا ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ یہ بے جا مداخلت کرتے ہیں، مجھے اعتراض ہے جب تک گواہ نہ بولے یہ کیوں لقمہ دیتے ہیں جس پر جج محمد بشیر نے دونوں کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے لڑنا ہے تو پھر میں چلا جاتا ہوں۔

آج کی سماعت میں شریف خاندان کے خلاف آر آئی اے اے بارکر جیلٹ لا فرم سے تعلق رکھنے والے دو نئے گواہان محمد رشید اور مظہر رضا خان بنگش نے ایون فیلڈ ریفرنس کے حوالے سے اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔

آج استغاثہ کے ایک اور گواہ ملک طیب کا مکمل بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔ احتساب عدالت میں العزیزیہ ریفرنس کی سماعت27 نومبر تک جبکہ ایون فیلڈ پراپرٹی، فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت 28 نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔28 نومبر کو نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک بار پھر طلب کیا گیا ہے۔

عدالت نے 28 نومبر کو مزید 2 گواہ مختار احمد اور عمردراز کو بھی طلب کرلیا۔


کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی روز عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

بعد ازاں عدالت کا وقت ختم ہونے کے باعث اس سے اگلے روز 20 اکتوبر کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بھی نامزد ملزم نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

تاہم نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواستیں مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تھا۔

نیب میں سماعت کے موقع پر نواز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے تک یہ کیس مزید نہیں چل سکتا، ہائیکورٹ نے 2 درخواستیں دوبارہ سننے کے احکامات جاری کیے تھے۔

نواز شریف نے تینوں ریفرنس یکجا کرنے کی ایک اور درخواست احتساب عدالت میں بھی دائر کی تھی جسے 8 نومبر کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف پر ایک بار پھر فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔

نواز شریف پر فرد جرم لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں دوبارہ عائد کی گئی۔ دوسری جانب مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی فرد جرم میں ترمیم کرتے ہوئے کیلبری فونٹ سے متعلق سیکشن 3 اے فرد جرم سے بھی نکال دی گئی تھی۔

اس کے چند روز بعد سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کا 3 ریفرنسز یکجا نہ کرنے کا 8 نومبر کا فیصلہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس کے بعد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کو نوٹس جاری کردیے تھے جبکہ ہائیکورٹ میں کیس کی سماعت تاحال جاری ہے۔

نیب عدالت میں 15 نومبر کو ہونے والی سماعت میں شریف خاندان کا فرد جرم عائد ہونے کے بعد باقاعدہ ٹرائل شروع ہوگیا تھا۔

سماعت میں استغاثہ کے 2 گواہوں ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی اہلکار سدرہ منصور اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں گواہ جہانگیر احمد نے بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

اسی سماعت پر نواز شریف نے عدالت سے حاضری کی ایک ہفتے کی جبکہ جبکہ مریم نواز نے ایک ماہ کی استثنیٰ کی درخواست کی تھی جسے منظور کرلیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top