site
stats
پاکستان

وزیراعظم نواز شریف اور ترکمان صدر کے درمیان شاہرائی رابطہ منصوبوں پر بات چیت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد نواز شریف اور ترکمانستان کے صدر قربان علی بردی محمدوف کو وسطی ایشیا کے ساتھ پاکستان کے مجوزہ شاہرائی رابطے سمیت علاقائی رابطہ کے منصوبوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

ترکمانستان کے صدر قربان علی بردی محمدوف کے دو روزہ دورہ پاکستان کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں ملکوں کے رہنماﺅں نے قرار دیا کہ پاکستان اور ترکمانستان کے مابین خوشگوار اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں جو تاریخی، ثقافتی، مذہبی اور باہمی عزت و احترام کی بنیادوں پر استوار ہیں۔ یہ تعلقات دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں پیوست ہیں۔ دونوں اطراف دوستانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ دونوں قیادتوں نے دو طرفہ اعلیٰ سطح پر سیاسی رابطوں کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو طرفہ تعلقات کو مزید آگے لیجانے کا باعث بنتے ہیں۔

وزیراعظم نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو پاکستان کی اقتصادی شہ رگ قرار دیتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق منصوبوں کے ساتھ علاقائی رابطے کے منصوبہ جات کی تکمیل سے پاکستان کا اقتصادی منظر بدل جائے گا اور یہ پورے علاقے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گا، ترکمانستان کے صدر نے اسٹوریج سہولیات سمیت مختلف شعبہ جات میں گوادر میں سرمایہ کاری میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔

انہوں نے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان، بھارت (تاپی) گیس پائپ لائن منصوبے کے ساتھ واقع مجوزہ شاہراہوں میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم گوادر سے اپنی ملکی بندرگاہ کی طرح استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ترکمانستان کے صدر بردی محمدوف نے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بارے میں وزیراعظم نوازشریف کے وژن کو سراہا۔

وفاقی وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔

واضح رہے کہ پاکستان چین اور وسطی ایشیائی ریاستیں وسطی ایشیائی علاقائی اقتصادی تعاون پروگرام کا حصہ ہیں۔ یہ پروگرام وسیع تر اقتصادی نمو اور تخفیف غربت کیلئے باہمی تعاون کے ذریعے علاقائی ترقی کو فروغ دینے کیلئے 10 ممالک کی شراکت داری ہے اور 6 کثیر الطرفہ ترقیاتی پارٹنرز ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top