The news is by your side.

Advertisement

شارجہ ٹیسٹ ، 4 کھلاڑیوں کی نصف سنچریاں ، قومی ٹیم بڑے اسکور میں ناکام

شارجہ: پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے مابین کھیلے جانے والے تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن کے اختتام پر پاکستانی ٹیم چار کھلاڑیوں کی نصف سنچری کے باوجود بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہی اور اُس کے 225 رنز پر 8 کھلاڑی آؤٹ ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق شارجہ ٹیسٹ کے پہلے دن ویسٹ انڈین بولرز کی عمدہ کارکردگی کے نتیجے میں پاکستانی بیٹسمین بڑا سکور کرنے میں ناکام نظر آئے اور کھیل کے اختتام پر پاکستان نے 8 کھلاڑیوں کے نقصان پر 255 رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے سمیع اسلم، یونس خان مصباح الحق اور سرفراز احمد نے نصف سنچریاں اسکور کیں لیکن ٹیم بڑا اسکور کرنے میں ناکام رہے۔میچ کے پہلے اوور میں گرنے والی دو وکٹوں نے ٹیم کو بڑا دھچکہ دیا ۔

اظہر علی کوئی رن بنائے بغیر پہلے اوور کی دوسری گیند پر گیئریئل کی گیند کھیلتے ہوئے گریگ بریتھ ویٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے تاہم اگلی گیند پر اسد شفیق ایل بی ڈبلیو ہوکر پویلین روانہ ہوگئے انہوں نے بھی کوئی رن اسکور نہیں کیا۔

پڑھیں: تیسراٹیسٹ میچ :پاکستان کاٹاس جیت کربیٹنگ کافیصلہ

 دس سال بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی ٹیم نے ٹیسٹ کے پہلے ابتدائی پہلے اوور میں تین وکٹیں گنوائیں قبل ازیں کراچی میں روایتی حریف بھارت کے بالر عرفان پٹھان نے 2006 میں ہیٹ ٹرک کی تھی۔

ایک رن پر دو وکٹیں کھونے کے بعد یونس خان اور سمیع اسلم نے ذمہ داری سے بیٹنگ کرتے ہوئے تیسری وکٹ کی شراکت میں 106 رنز کا اضافہ کر کے ٹیم کی پوزیشن بہتر بنائی تاہم سمیع اسلم نے جو بڑے اعتماد سے بیٹنگ کر رہے تھے 74 کے انفرادی سکور پر ریورس سوئپ کرنے کی کوشش میں اپنی وکٹ دیویندرا بشو کو تحفے میں تھما دی۔

سمیع اسلم کی اس سیریز میں یہ تیسری اور مجموعی طور پر پانچویں نصف سنچری ہے تاہم وہ اپنے کرئیر میں چوتھی مرتبہ سنچری کے قریب آکر آؤٹ ہوئے ہیں۔ تاہم یونس خان بھی آؤٹ ہوکر پویلین روانہ ہوئے نئے آنے والے کھلاڑیوں مصباح الحق اور سرفراز احمد نے پانچویں وکٹ کی شراکت میں 80 رنز کا اضافہ کیا تاہم مصباح الحق بشو کی گیند پر ریورس سوئپ کھیلتے ہوئے ڈورچ کے ہاتھوں آؤٹ ہوگئے۔

نئے آنے والے کھلاڑی محمد نواز 6 رنز اسکور کرسکے بعد ازاں سرفراز احمد اور وہاب ریاض بھی پویلین لوٹ گئے۔ وکٹ کیپر سرفراز احمد 51 رنز کی اننگز کھیلنے کے بعد گیبریئل کا شکار بنے۔

مصباح الحق پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ 49 ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرنے والے کپتان بن گئے۔ انہوں نے سیریز میں لگاتار تیسری مرتبہ ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن شارجہ کی وکٹ ابتدائی لمحات میں بیٹسمینوں کے لیے پریشانی کا سبب بننے کے لیے مشہور ہے اور پاکستانی بیٹسمین اس ابتدائی وار کو سہہ نہ سکے۔

دیویندرا بشو ویسٹ انڈیز کے سب سے کامیاب بولر رہے وہ اب تک چار وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔دونوں ٹیمیوں میں دو، دو تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ پاکستانی ٹیم میں سہیل خان اور راحت علی کی جگہ محمد عامر اور وہاب ریاض کو شامل کیا گیا ہے جبکہ مخالف ٹیم نے شائے ہوپ اور میگوئل کی جگہ شین ڈورچ اور الزاری جوزف کوموقع دیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں