site
stats
اہم ترین

پیپلزپارٹی کےرہنماشرجیل میمن کی گرفتاری کےبعدرہائی

اسلام آباد: پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کو وطن واپس پہنچنے پر نیب نے اسلام آباد ایئرپورٹ پر حراست میں لیا تاہم ضمانتی دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد انہیں رہاکردیاگیا۔

تفصیلات کےمطابق پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن رات گئے دبئی سے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تو نیب کی ٹیم نے انہیں حراست میں لے لیا۔

شرجیل میمن کے ساتھ اس موقع پران کے ہمراہ سندھ حکومت کے تین وزراامداد پتافی، مکیش چاؤلہ، فیاض بٹ بھی موجودتھے۔سابق صوبائی وزیرکواحتساب بیوروہیڈکوارٹرراولپنڈی میں رکھاگیا۔

نیب نےڈیڑھ گھنٹے سے زائد سابق صوبائی وزیر سے پوچھ گچھ کی۔اس دوران شرجیل میمن نےاپنی ضمانتی دستاویزات پیش کیں جن کی جانچ پڑتال اور دستاویزات کی تصدیق ہونے کےبعد نیب نے انہیں رہا کردیا۔

خیال رہےکہ شرجیل میمن کے وکلا نےاسلام آباد ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت کرا رکھی تھی اور انہیں 20 مارچ کو عدالت میں پیش ہونا تھا جس کی وجہ سے وہ کراچی کے بجائے اسلام آباد پہنچے۔

دوسری جانب شرجیل میمن کےساتھ اسلام آبادایئرپورٹ آنےوالےفیاض بٹ کی اےآروائی نیوزسےخصوصی گفتگوکرتے ہوئےکہاکہ شرجیل میمن کوقانون نافذ کرنےوالے اداروں نے گرفتارکیا۔

فیاض بٹ کاکہناتھاکہ جہازسےاترتےہی ہمارےساتھ بدتمیزی کی گئی جبکہ سادہ لباس اہلکار شرجیل میمن کو اپنے ساتھ لےگئے۔انہوں نےکہاکہ شرجیل میمن پرصرف ایک مقدمہ ہےجس کی ضمانت کرارکھی ہے۔

ادھرپیپلز پارٹی کےصوبائی وزیر امداد پتافی نے شرجیل میمن کی گرفتاری سے متعلق کہا کہ وہ سندھ اسمبلی کے رکن ہیں اور ان کے پاس ضمانت کے کاغذات تھے لیکن انہیں حراست میں لیے جانے کے دوران اس بات کا بھی خیال نہیں رکھاگیا۔

شرجیل میمن نے رہائی کےبعد اےآروائی نیوزسےخصوصی گفتگوکرتے ہوئےکہاکہ آج میڈیاکوتمام صورت حال سےآگاہ کروں گا جبکہ پیرکو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوں گا۔

پیپلزپارٹی کے رہنما کا کہناتھاکہ عدالت میں پیش ہونےکےبعدکراچی آنےکاپلان دوں گا۔انہوں نےکہاکہ مقدمات کاسامناکرنےپاکستان آیاہوں۔

شرجیل میمن نیب ہیڈکوارٹرراولپنڈی سےرہائی کےبعد امدادپتافی،فیاض بٹ اورمکیش چاؤلہ کے ہمراہ سند ھ ہاؤس روانہ ہوگئے۔

واضح رہےکہ شرجیل میمن سندھ حکومت کے وزیراطلاعات رہے ہیں اور ان پر اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں جبکہ نیب نے شرجیل میمن کے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر کررکھا ہے اور ان کا نام بھی ای سی ایل میں شامل ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top