The news is by your side.

Advertisement

رواں ماہ کامیاب پاکستان پروگرام شروع کرنے کا اعلان

اسلام آباد : وزیر خزانہ شوکت ترین نے رواں ماہ کامیاب پاکستان پروگرام شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا اس پروگرام کے تحت 40 سے 60 لاکھ خاندانوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا۔

‌تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگرہم قیمتوں کودیکھیں تودنیابھرمیں واویلاہے، ہماری قیمت4.18 پھر  6.81پھر10.46ہوگئی، چینی 2018 میں303ڈالرپرٹن تھی، اب چینی430ڈالرپرٹن پرچلی گئی ہے، اسی طرح 2018میں گندم188تھی اب 218پرچلی گئی اور پام آئل2018میں621تھااب1100سےاوپرہے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ہم ہمیشہ کہتےتھےکہ کاشتکاروں کوعالمی قیمتیں ملنی چاہییں، ہماراکام ہےکہ زرعی پیداوار بڑھائیں ، ہم گندم،دالیں،گھی درآمدکرتےہیں، مہنگائی کی شرح اس سال 8 فیصد کے قریب قریب ہوگی۔

چینی اور گندم کی قیمتوں کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ چینی 2017ء میں 303 ڈالر سے بڑھ کر 430 ڈالر ٹن ہوگئی ہے، گندم 274 ڈالر فی ٹن پر پہنچ چکی ہے، خوردنی تیل کی قیمتیں بھی بڑھیں، کورونا وباکے باعث پیداوار کم ہوئی اور سپلائی چین بھی متاثرہوئی۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کوپہلے آئی ایم ایف کے پروگرام اور پھر کورونا سے مسائل ہوئے ، جولائی 2020میں شہری افراط زر 15.1 اور دیہی افراط زر17.1 فیصد تھی ، اس وقت اربن افراط زر 10.2 اور دیہی افراط زر9.1 فیصد ہے۔

شوکت ترین نے بتایا کہ ہم اسی ماہ سےٹارگٹڈسبسڈی دےرہےہیں، پہلےصرف بجلی اورگیس کی ٹارگٹڈسبسڈی دےرہےتھے، نچلی40 سے44 فیصد آبادی  کو سبسڈی دی جائے گی ، پہلے ہمارے پاس ڈیٹا نہیں تھااب احساس کےذریعے ڈیٹا آگیا ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نےکوشش کی کہ وہ قیمتیں نہ رکھیں جوعالمی سطح پرہیں، چینی کی قیمت میں2020سے2021تک41فیصدتک اضافہ ہوا، ہم نےچینی کی قیمت میں 11 فیصد اضافہ کیا، گندم میں ایک سال کےاندر32فیصدقیمت بڑھی ہم نے15فیصدبڑھائی۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں زراعت پر توجہ دینی ہوگی اور پسے کاشتکار کا خیال رکھنا ہوگا جبکہ ہمیں اپنے ہاں مہنگی اشیاکی درآمدکم کرنی ہوگی، گندم کی امدادی قیمت 1950 روپے کردی،امیدہےآٹےکی قیمت کم ہوگی، جب پرائسزبڑھ رہی تھیں توپٹرولیم لیوی ریلیزکرتےرہے۔

صحت کارڈ کے حوالے سے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ پی ٹی آئی حکومت کابہت بڑااقدام ہے، غریب کاکوئی بیمارہوجائےتوپوراخاندان نیچے چلا جاتا ہے، پی ٹی آئی حکومت کو مجبوراً آئی ایم ایف پروگرام میں جاناپڑا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہم نے چینی، گندم اور خوردنی تیل کی قیمتیں 15 سے 20 فیصد بڑھائیں جبکہ عالمی مارکیٹ میں چینی،گندم اورخوردنی تیل کی قیمتیں 70 سے95 فیصد بڑھیں، چندسال سےہم نےلوگوں کی آمدن نہیں بڑھائی، آمدن میں اضافے کےاقدامات کرنا ہوں گے ، آمدن بڑھنے سے مہنگائی کا بوجھ کم محسوس ہوگا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ معیشت میں بہتری سے ریونیو بڑھ رہے ہیں، اس ماہ کامیاب پاکستان پروگرام شروع کردیں گے، جس سے 40 سے 60 لاکھ خاندانوں کو  اپنے  پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع ملے گا۔

ملکی قرضوں کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا کہ قرضوں کا بوجھ معیشت پر بڑا مسئلہ ہے، مرکزی بنک کے ذخائر بڑھانے کےقرضے بھی اس میں شامل ہیں، آئی ایم ایف اور یورو بانڈ کے ذخائر نکالنے کےبعد 4 سے 5 ارب ڈالر بڑھے ، 2018میں غیر ملکی قرض بڑھ 81.1 ارب ہوچکا تھا جبکہ گورنمنٹ ڈیپازٹ 66.5 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد تک آچکے ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پالیسی ریٹ 13.25 فیصد اور روپے کی قدر میں کمی ہوئی، روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرضوں میں اضافہ ہوا، اب قرضے 39.9 ٹریلین روپے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ یہ قرضے 2018 میں 25.29 ٹریلین تھے، 4 سے 5 ارب ڈالر کے مالی ذخائر میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق قرض بلحاظ جی ڈی پی2020 میں 85.7 تھا اور 2021 میں 81.1 فیصدہوگیا، 2018 میں قرض بلحاظ جی ڈی پی 74 فیصد پر تھا، معیشت جب بڑھتی ہے تو قرضوں میں اضافہ ہوتا ہے، 204 ارب کا حکومتی ملکیتی کامنافع 2018 میں 286 ارب کے نقصان میں بدل گیا، 2018 میں 226 ارب کا منافع تھا اور 2018 میں ہی 143 ارب کا نقصان ہوا۔

پاک افغان تجارت سے متعلق وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ طےہےکہ ہم نےافغانستان کی مددکرنی ہے، اگرکوئی ایکسپورٹ افغانستان میں کرنی ہےتوکرینگے، افغانستان سےکاروبار کے لیے مقامی کرنسی کےاستعمال کی بات چل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلئٹی اسٹورز کے ذریعے لوگوں کو سبسڈی دی جائےگی، تنخواہ دار طبقے کیلئے آمدن تبھی بڑھے گی جب معیشت میں بہتری آئے گی، عالمی  مارکیٹ سے ہماری قیمتیں منسلک ہیں جس سےقیمت بڑھتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں