The news is by your side.

‘ڈالر کی قیمت مزید بڑھے گی لیکن نہیں بتا سکتا کہاں تک جائے گی’

اسلام آباد : سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ڈالر کی قیمت مزید بڑھے گی لیکن نہیں بتاسکتا کہاں تک جائے گی کیونکہ پھر ذخیرہ اندوزی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان نے پٹرول اور بجلی سستی کی تو فنڈز بھی رکھے ، کمپنیوں کے بھی ڈویڈنڈ سے ہمیں فنڈزحاصل ہوئے۔

سابق وزیر خزانہ نے بتایا کہ کہ 100ارب روپے ہم نے پی ایس ڈی پی میں کٹوتی سے حاصل کیے تھے، موجودہ حکومت کی نااہلی تھی انہوں نے ڈیڑھ ماہ کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے موجوہ حکومت کو پروگرام ختم کرنے کی تنبیہ کی تھی، ہمارے دور میں برآمدات، ٹیکس وصولی، ترسیلات زرتاریخی زیادہ رہیں ، ہم نے آئی ایم ایف کو بتایا تھا سستا پٹرول اور بجلی کی سبسڈی کیسے دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ سیاسی بے یقینی سے معاشی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، آئی ایم ایف سے معاہدہ ہوگیا، پیسے بھی آگئے پھر کیوں ڈالر بڑھ رہا ہے؟ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے جو ڈالر موجود ہیں، وہ بھی نکل جائیں گے۔

سابق وزیر کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قیمت مزید بڑھے گی لیکن میں نہیں بتاسکتا کہاں تک جائے گی، ڈالر کی بڑھتی قیمت اس لیے نہیں بتانا چاہتا ہوں کیوں پھر ذخیرہ اندوزی ہوگی۔

شوکت ترین نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے مہنگائی کی بڑی وجہ حکومت پراعتماد نہیں ہے، دوست ممالک بھی آگے اس لیے نہیں آرہے کیونکہ موجودہ حکومت پراعتماد نہیں۔

مہنگائی کے حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ مہنگائی پہلےسےموجود،سیلاب کی وجہ سےقحط کاخدشہ ہے، مہنگائی کےساتھ غذاکابحران ہو تو لوگ سڑکوں پرنکل سکتےہیں، مشکلات حالات میں دوست ممالک مدد کرتے ہیں لیکن دوست ممالک بھی پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کودیکھ رہے ہیں۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بھی پاکستان تب آئیں گے جب مارکیٹ حکومت پراعتماد کرے، سیاسی استحکام ہوگا تو عالمی سطح پر بھی پاکستان کی مدد کیلئے لوگ آگے آئیں گے۔

شوکت ترین کا کہنا تھا کہ سیاسی استحکام ہوگا تو تمام مسائل حل کی طرف جائیں گے اور سیاسی استحکام کیلئے شفاف الیکشن ناگزیر ہیں اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں