The news is by your side.

Advertisement

پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے سے حکومت کو کتنا نقصان ہوا؟ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتادیا

اسلام آباد : وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمتیں بڑھانےسے حکومت کو 2ارب کا نقصان ہوا ، وزیراعظم عمران خان عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالناچاہتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پیٹرول کی قیمتوں پر پاکستان 17ویں نمبرپر ہے ، پیٹرول کی قیمتیں بڑھانےسے حکومت کو 2ارب کا نقصان ہوا ، یہ سگنل ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم غریب کیلئے درد رکھتا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کورونا کی صورتحال نے پاکستان کو بھی متاثر کیاہے ، مہنگائی بڑھنےسے پاکستان بھی بہت متاثرہورہاہے ، پچھلے30سال کی کوتاہیوں کی وجہ سےپاکستان فوڈ امپورٹر بنا ہے۔

زرعی شعبے کے حوالے سے شوکت ترین نے کہا کہ زرعی شعبے کی ترقی اورپیداواری لاگت بڑھانے کیلئےاقدامات کررہےہیں، ہماری کوشش ہے کہ زرعی پیداوار  بڑھا کر باہر جو پیسہ جاتاہےاسے روکیں، وزیراعظم عمران خان عوام پر کم سے کم بوجھ ڈالناچاہتے ہیں۔

چینی اور گھی کی قیمتوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ پورے ملک میں چینی فی کلو90روپے ہوجائے، گھی کی قیمتیں عالمی سطح پر دگنی ہوگئی ہیں، حکومت براہ راست فوڈ سبسڈی دےگی، آٹا،چینی،گھی کی قیمتوں پرساڑھے12لاکھ خاندانوں کوبراہ راست سبسڈی دیں گے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ مڈل مین بہت منافع کماتا ہے ، ایڈمنسٹریشن میں خامیاں ہیں، پرائس مجسٹریٹ نہ ہونےسے لوگ من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں، ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ ہر مرحلے پر لوگ کتنامنافع کمارہے، 10سے12چیزوں پر اسٹڈی کے بعد انتظامی طورپرایکشن لیں گے۔

ایف بی آر وصولیوں کے حوالے سے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ اس وقت ایف بی آرکی پچھلےسال کےمقابلےہدف سے زیادہ وصولیاں ہورہی ہیں، انڈسٹری، سروس اور زرعی سیکٹرز ترقی کررہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ حکومت چند دنوں میں کامیاب پاکستان کاپروگرام لانچ کرنیوالےہیں، پروگرام سےزرعی شعبےسےوابستہ غریب لوگوں کی مالی مدد کی جائے گی اور اربن ایریاز میں ہر گھرانےکو بغیر سود 5لاکھ روپے قرضہ دیاجائے گا۔

صحت کارڈ سے متعلق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کےپی کےبعد اب پنجاب میں شروع ہورہاہے،پاکستان کے ہر گھرانے کو صحت کارڈ کی فراہمی یقینی بنائیں گے، حکومت ایک سسٹم کےتحت مسائل حل کرنے کی جانب گامزن ہے، ہم لوگوں کو صرف مچھلی نہیں دینگے بلکہ پکڑنا بھی سکھائیں گے۔

شوکت ترین نے مزید کہا کہ اسوقت دنیا بھر میں مختلف اشیا کی قیمتیں بہت اوپر ہیں، شوگرکی اسوقت ہمارے ملک میں بمپر کراپ ہے ، ہم چاہتے ہیں اگلے دو سے تین سال میں پیداوار کا 20فیصف اسٹاک موجود ہوناچاہیے، گندم پیداوار بڑھانے کیلئے بھی پیسہ لگارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جی ڈی پی کا خسارہ پچھلے سال 4فیصد کم ہوا اس سال اورکم ہوگا، روپے کی قدرکم ہوتی ہے تو سرکلر ڈیٹ بڑھتا رہتاہے، بجلی کے ٹیرف بڑھانا مسئلےکاحل نہیں ہے ،بجلی کے ٹیرف بڑھانے سے غریب پر بوجھ پڑتاہے،پرامید ہوں کہ آئی ایم ایف کیساتھ تعمیری گفتگو ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں