پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ 4 اکتوبر کا مارچ خونی ہوسکتا ہے حکومت بھی جاسکتی ہے۔
اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی رکن شوکت یوسفزئی نے لانگ مارچ ملتوی کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارچ خونی ہوسکتا ہے اگر ملتوی نہیں کرنا تو پھر کم از کم مشاورت ہونی چاہئے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ کے پی حکومت کے خلاف خطرناک بیانیہ بنایا جارہا ہے، ہمیں اسمبلی تحلیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم ن لیگ کو کیوں فائدہ دیں گے ان کی حکومت تو ویسے ہی گررہی ہے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میں نے اپنی پارٹی کو خط لکھا تھا، اس وقت صورتحال سب کے سامنے ہے، حکومت خطرناک بیانیہ بنا رہی ہے، پارٹی کو بین کرنے کا یہ ارادہ رکھتے ہیں یہ چیز قابل قبول نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی رہنماؤں سے درخواست کی ہے کہ لانگ مارچ پر مشاورت کرلیں لیکن ہماری تیاری مکمل ہے اور لوگ نکلیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جگہ علی امین کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ عمران خان ہی کرسکتے ہیں اس کے علاوہ کوئی کچھ نہیں کرسکتا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے تمام جماعتوں کو بیٹھنا ہوگا۔


