The news is by your side.

Advertisement

کے پی اسپتالوں میں ڈاکٹرز کی ہڑتال، وزیر صحت ہشام انعام اللہ کی برطرفی کا مطالبہ

پانچ سال میں جتنے مطالبات تھے وہ مان لیے گئے، اب مزید کیا مطالبات ہیں ڈاکٹروں کے: وزیر اطلاعات کے پی

پشاور: وزیر اطلاعات خیبر پختون خوا شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ 5 سال میں جتنے مطالبات تھے وہ مان لیے گئے ہیں، اب مزید کیا مطالبات ہیں ڈاکٹروں کے، جن ڈاکٹرز کا دور دراز علاقوں میں تبادلہ ہوا انھیں وہاں جانا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات کے پی نے کہا ہے کہ جس ڈاکٹر کا دور درازعلاقوں میں تبادلہ ہوا انھیں وہاں جانا ہوگا، ڈاکٹرز کا مطالبہ ہے کیا؟ وہ ہم سے بات کریں۔

دوسری طرف خیبر پختون خوا میں ینگ ڈاکٹرز کی غنڈہ گردی کے بعد ہٹ دھرمی شروع ہو گئی ہے، لیڈی ریڈنگ، حیات آباد، ایوب میڈیکل کمپلیکس سمیت دیگر اسپتالوں میں آج بھی ہڑتال رہی، ڈاکٹروں نے وزیر صحت ہشام انعام اللہ کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔

شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ احتجاج، مطالبات ڈاکٹرز کا حق ہے، کوشش ہے ان کے مسائل حل کریں، اس وقت احتجاج سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے، ہم نے ڈاکٹرز کے مطالبے پر 142 فی صد اضافہ کیا، 50 فی صد نرسوں، 12 فی صد پیرامیڈکس میں اضافہ کیا گیا۔

شوکت یوسف زئی نے کہا کہ کم زور ڈسٹرکٹس میں ہمیں تعلیم اور صحت کے وسائل دینے ہیں، نہیں چاہتے کوئی ٹکراؤ کریں، انکوائری کے بعد دیکھیں گے کہ کسی کو شو کاز جانا چاہیے یا نہیں، کچھ لوگوں کی وجہ سے سب داغ دار ہو جاتے ہیں، سارے ایسے نہیں، بائیکاٹ کی بات کرنے والے شام کو پرائیویٹ پریکٹس کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پشاور: خیبر ٹیچنگ اسپتال میں ڈاکٹر پر تشدد کے خلاف ڈاکٹرز کا احتجاج

انھوں نے کہا کہ عوام کو پتا چلنا چاہیے کہ ہم نے کیا کیا اور بدلے میں کیا ملا ہے، حکومت نے انتظامیہ اور حکومتی معاملات چلانے ہوتے ہیں، ڈاکٹرز کے احتجاج کے باعث عام لوگ متاثر ہو رہے ہیں، جب ہم آئے تھے تو مجموعی طور پر 3639 میڈیکل افسر تھے، کہتے تھے ڈاکٹرز کم ہیں، ہم نے 142 فی صد میڈیکل افسران بڑھائے، ڈسٹرکٹ افسران میں 232 فی صد اضافہ کر دیا، ہیومن ریسورس میں 39 فی صد اضافہ کیا۔

کے پی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ہیلتھ الاؤنس پہلے 10 ہزار تھا ہم نے 1 لاکھ 40 ہزار کر دیا، نرسنگ کا سروس اسٹرکچر نہیں تھا اس کے لیے 5 سال کا فارمولا دیا، لیکن اب بھی احتجاج کیا جا رہا ہے، 80 سال کے بزرگ پر انڈے کیوں پھینکے گئے، کیا یہ ہمارا کلچر ہے؟

انھوں نے مزید کہا کہ دور دراز علاقوں میں ڈاکٹرز نہیں ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ان علاقوں میں ڈاکٹرز فراہم کریں، عمران خان کہتے ہیں غریبوں کے لیے کام کروں گا، لیکن غریبوں تک ڈاکٹرز نہیں بھیج سکیں گے تو پھر ہمارا فائدہ کیا ہے، جس ڈاکٹر کا دور درازعلاقوں میں تبادلہ ہوا انھیں جانا ہوگا، بڑی تنخواہیں جو لے رہے ہیں یہ عام آدمی کی جیب سے آتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں