The news is by your side.

Advertisement

ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری پر اپوزیشن کیا سودے بازی کررہی ہے؟ انکشاف

اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے بل کی منظوری کے ساتھ اپوزیشن نیب کا بل بھی منظور کروانا چاہتی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ نیب قوانین سے متعلق اپوزیشن صرف اپنے لیے بات کررہی ہے تاکہ بچت کا راستہ نکل سکے۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں خود کمیٹی کا ممبر ہوں جس میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین نے ایف اے ٹی ایف بل کی منظوری کے لیے نیب بل کی شرط رکھی، دراصل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اےٹی ایف) بل پر اپوزیشن ڈیل کر کے نیب بل بھی منظور کروانا چاہتی ہے۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ آج 25 جولائی کو الیکشن ہوئے دو سال کا عرصہ مکمل ہوگیا، ہماری حکومت کا قیام 18 اگست کو عمل میں آیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نےملک میں رہ کر اداروں کو کمزور کیا، سرکاری اداروں میں سیاسی بھرتیاں کی گئیں، ہمیں بھارت سے لڑنےکی ضرورت نہیں، اپوزیشن ہی کافی ہے کیونکہ اُس نے ہمارےاداروں کو اندرونی طور پر تباہ کیا۔

مزید پڑھیں: ‘پاکستان ایف اے ٹی ایف کے27 میں سے 14 پہلوؤں پر عملدر آمدکر چکا’

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ’حکومت سنبھالی تو معیشت دیوالیہ ہونے کےقریب تھی، روپےکی قدر سہارے پر تھی،حکومت نے اقدامات کیے جس کے بعد آج صورت حال بہتر ہوئی ہے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو جو سوالات ہم سےکر رہے ہیں وہ اپنے والد سے ہی پوچھ لیں، وہ زرداری سے پوچھیں سرے محل کس کا تھا،جعلی اکاؤنٹس کی کیاکہانی ہے، پاکستان میں مسٹرٹین پرسنٹ کس کو کہا جاتا تھا، پیپلزپارٹی کے چیئرمین ان باتوں کا جواب بھی قوم کو دیں کیونکہ عمران خان اپنی پوری منی ٹریل سپریم کورٹ میں پیش کرچکے ہیں اور عدالت نے ہی انہیں صادق و امین قرار دیا۔

شبلی فراز کا کہنا تھا کہ افسوس اب پیپلزپارٹی آصف زرداری کی جماعت ہوگئی ہے،  قمرزمان کائرہ  اور چوہدری منظورجیسے نظریاتی لوگ آج بھی بھٹو کے نظریے اور ویژن پر چل رہے ہیں،ان دو جماعتوں (مسلم لیگ ن اورپیپلزپارٹی) نے مک مکا کر کے ملک اور قوم کو لوٹا۔

وفاقی وزیر اطالاعات کا کہنا تھا کہ ’قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ پی ٹی آئی نے تو نہیں بنایاگیا،مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اس ادارے کا سیاسی استعمال کیا اور ایک دوسرے پر مقدمات بنوائے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں