The news is by your side.

Advertisement

دعا زہرا کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی اور کہا جس کے ساتھ جانا یا رہنا چاہے رہ سکتی ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ARY News (@arynewstv)

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا گیا ہے، فیصلے میں دعا زہرا کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دے دی۔

سندھ ہائیکورٹ نے تین صفحات پرمشتمل تحریری حکم نامہ جاری کیا ، جس میں کہا کہ دعا زہرا کی مرضی ہے، جس کے ساتھ جانا یا رہنا چاہے رہ سکتی ہے، شواہد کی روشنی میں اغوا کا مقدمہ نہیں بنتا۔

عدالت نے بتایا ہے کہ عدالت بیان حلفی کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ دعا زہرہ اپنی مرضی سے شوہر کے ساتھ رہنا چاہے یا اپنے والدین کے ساتھ جانا چاہے تو جا سکتی ہے، وہ اپنے اس فیصلے میں مکمل آزاد ہے۔

سندھ ہائیکورٹ نے کیس کے تفتیشی افسر کو ضمنی چالان جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تفتیشی افسر عمر کے تعین پرمیڈیکل سرٹیفکیٹ اور ریکارڈ بیان بھی پیش کرے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ دعا زہرا کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنا سندھ حکومت کی صوابدید ہے ، ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھے۔

دوران سماعت کیا ہوا؟

اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ میں دعا زہرا کیس کی سماعت ہوئی ، دعازہرااور اس کے شوہر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر میڈیکل کرانے کا حکم دیا تھا، ہم نے کچھ دستاویزات پیش کرنی ہے۔

جسٹس جنید غفار کا کہنا تھا کہ آپ نے جو بھی پیش کرنا ہے ٹرائل کورٹ میں پیش کریں، ہمارے پاس بازیابی کا کیس تھا ، بچی بازیابی ہو گئی ہے۔

پراسکیوٹر جنرل سندھ نے کہا کہ کیس نمٹا دیا جائے ،باقی معاملات کیلئے کیس ٹرائل کورٹ بھیج دیں۔

عدالت نے دعا زہرا کو والدین سے ملنے کی اجازت دے دی تھی جس کے بعد والدین نے کہا کہ لڑکی ان کے ساتھ جانا چاہتی ہے-

سماعت میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ 10تاریخ کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش کرناہے، کسٹڈی پنجاب پولیس کےحوالےکی جائے تاکہ بچی کولاہور ہائی کورٹ میں پیش کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں : دعا زہرا سے ملاقات کے بعد والدین کا بڑا دعویٰ

درچواست گزار نے کہا کہ کیس یہاں چل رہاہے ، جس پر عدالت نے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ بچی کابیان ہوچکاہےآپ جذبانی کیوں ہورہےہیں۔

عدالت نے والد سے استفسار کیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں ، جس پر والد کا کہنا تھا کہ میری شادی کو17 سال ہوئے ہیں، میری بچی کی عمر17 سال کیسے ہوسکتی ہے۔ جسٹس جنیدغفار نے کہا کہ ہمارے پاس دعا زہرا کا بیان ہے، ہم نےسپریم کورٹ اوروفاقی شرعی عدالت کےفیصلوں کودیکھناہے، آپ ملاقات کرلیں ان سےہم چیمبرمیں ملاقات کراتےہیں۔

بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرا کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

بیٹی گھر جانا چاہتی ہے، دعا زہرا کے والدین کا دعویٰ غلط قرار 

Comments

یہ بھی پڑھیں