ہفتہ, دسمبر 13, 2025
اشتہار

سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: کراچی کے تمام پارکوں اور کھیل کے میدانوں میں تجارتی سرگرمیاں غیر قانونی قرار

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی : سندھ ہائی کورٹ نے شہر کے تمام عوامی پارکوں اور کھیل کے میدانوں میں تجارتی سرگرمیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سےپارک کےکمرشل استعمال کیخلاف درخواستوں پر فیصلہ سنادیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کو عوامی پارکوں اور کھیل کے میدانوں کو نجی پارٹیوں کو کرائے پر دینے یا کمرشل سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔

دو رکنی بینچ جسٹس محمد فیصل کمال عالم اور جسٹس محمد حسن اکبر نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 140-اے کے تحت بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونا تھے، تاہم صوبائی اسمبلی نے یہ اختیارات بلدیاتی اداروں کو منتقل نہیں کیے، اسی لیے فی الحال کے ایم سی کے اقدامات غیر قانونی ہیں۔

عدالت نے کہا کہ پارک صرف بطور پارک ہی استعمال کے لیے رہنے چاہئیں، امینٹی پلاٹ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے نام پر بھی امینٹی پلاٹ کے اصل مقصد کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے سٹی کونسل کی قرارداد نمبر 134 کو کالعدم قرار دے دیا جس کے تحت مختلف پارکوں کو کمرشل سرگرمیوں کے لیے دیا گیا تھا۔

کراچی کی خبریں

یہ درخواست اپوزیشن لیڈر سٹی کونسل اور کراچی کے 9 ٹاؤن چیئرمینز کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں شہر کے بڑے پارکوں کے کمرشل استعمال پر اعتراض اٹھایا گیا تھا۔ متاثرہ پارکوں میں عمر شریف پارک، باغ ابن قاسم، ہل پارک اور کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس سمیت دیگر شامل ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 9-اے کے تحت عوامی پارک شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہیں اور ان کے استعمال میں تبدیلی کسی بھی صورت ممکن نہیں۔

اہم ترین

اصغر عمر
اصغر عمر
اصغر عمر اے آر وائی نیوز سے بطور کورٹ رپورٹر وابستہ ہیں

مزید خبریں