The news is by your side.

کارِ سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکار کو زخمی کرنے کا الزام، جام خان شورو کی حفاظتی ضمانت میں توسیع

کراچی: کار سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکار کو مبینہ طور پر زخمی کر کے فرار ہونے کے والے پیپلزپارٹی کے سابق وزیر جام خان شورو کی عدالت نے حفاظتی ضمانت میں توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی کے رہنما ور رکن اسمبلی جام خان شورو نے عدالت میں گرفتاری سے بچنے کے لیے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست دائر کی تھی۔

عدالت نے درخواست میں سماعت کرتے ہوئے کارسرکارمیں مداخلت،پولیس اہلکار کوزخمی کرکے فرارہونےکے الزام میں جام خان شورو کی ضمانت میں 19 اپریل تک توسیع کردی۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس کے تفتیشی افسر کو تمام تفصیلات کے ساتھ طلب کرلیا۔

یاد رہے کہ نیب کی تفتیشی ٹیم نے پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی اور سابق وزیر بلدیات کی 13 مارچ کو گرفتاری کی کوشش کی تھی البتہ وہ چکما دے کر فرار ہوگئے تھے۔

مزید پڑھیں: نیب کی رکن سندھ اسمبلی کو گرفتار کرنے کی کوشش، پیپلزپارٹی نے تصدیق کردی

نیب کی ٹیم نے پیپلزپارٹی کےرکن سندھ اسمبلی کو ایوان کے قریب روک کر گرفتارکرنےکی کوشش کی مگر انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا،  پیپلزپارٹی رہنماؤں نے بھی رکن اسمبلی کو روکے جانے کی تصدیق کردی۔

یاد رہے کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) کے خوف اور حراست سے محفوظ رہنے کے لیے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے 22 فروری کو سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی تھی۔

اسپیکر اسمبلی کی آمدن سے زائد اثاثوں میں نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد پیپلزپارٹی کے اراکین اسمبلی نے سندھ ہائی کورٹ میں عبوری ضمانت کے لیے درخواستیں دائر کیں تھی۔ رکن قومی اسمبلی اعجاز جاکھرانی جبکہ اراکین سندھ اسمبلی تیمور تالپور، عبدالرزاق کی درخواستیں عدالت نے منظور کرلی تھیں جبکہ عدالت نے نیب کو جام خان شورو کے خلاف بھی کارروائی سے روک دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت نےجام خان شوروکے خلاف کیس کی سماعت 8 مارچ تک ملتوی کردی

نمائندہ اے آر وائی کے مطابق نیب نے جس رکن اسمبلی کو گرفتار کرنے کی کوشش کی انہوں نے ہائی کورٹ سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کی ہوئی ہے مگر تفتیشی ٹیم کے پاس حراست میں لینے کے وارنٹ موجود تھے۔

یاد رہے کہ نیب نے  اسلام آباد سے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو گرفتار کیا تھا جس کے بعد اُن کے گھر پر چھاپہ مار کر اہم دستاویزات بھی قبضے میں لی گئیں، بعد ازاں احتساب کورٹ نے اسپیکر اسمبلی کو 10 روز کے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا، بعد ازاں عدالت نے گزشتہ روز ریمانڈ میں 21 مارچ تک بھی کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں