The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے نمرتا کیس کی جوڈیشل انکوائری کی اجازت دے دی

لاڑکانہ : چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے نمرتا قتل کیس کی عدالتی تحقیقات کرنے کی اجازت دے دی ، سیشن جج لاڑکانہ نے سندھ حکومت کی درخواست پر اجازت طلب کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے نمرتا کیس کی جوڈیشل انکوائری کی اجازت دے دی جبکہ سیشن جج نے پولیس افسران کو طلب کرکے تحقیقات پر بریفنگ لی، ڈی آئی جی لاڑکانہ اورایس ایس پی نے تحقیقات پر بریفنگ دی۔

ڈی آئی جی لاڑکانہ نے کہا پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات کی رپورٹ سیشن جج کوپیش کی، 27 ستمبرتک تحقیقات میں جو چیزیں سامنےآئینگی آگاہ کرتے رہیں گے ، سیشن جج کوجائےوقوع کامعائنہ بھی کرائیں گے۔

،ڈی آئی جی لاڑکانہ کا مزید کہنا تھا کہ عدالتی تحقیقات کاآغاز27 ستمبرسےہوگا، عدالتی تحقیقات مکمل ہونےتک مقدمہ درج نہیں کریں ، موت کی وجہ جاننے پر تحقیقات ہوگی اور انتظامیہ کے کردار کو بھی دیکھا جائے گا۔

یاد رہے سیشن جج لاڑکانہ نے سندھ حکومت کی درخواست پراجازت طلب کی تھی اور سندھ حکومت نے ڈاکٹر نمرتاکیس کی جوڈیشل انکوئری کیلئے سیشن جج کو خط لکھا تھا۔

مزید پڑھیں :  نمرتا کے ورثا کی پولیس افسران سے ملاقات، مقدمہ درج کرانے سے انکار

گذشتہ روز میڈیکل کالج کی طالبہ نمرتا کی لاش کی کیمیائی رپورٹ سامنے آ ئی تھی ، جس میں لاش سے حاصل نمونوں میں زہریلی دوا کے شواہد نہیں ملے، نمرتا کی ہسٹرو پیتھالوجی رپورٹ چند روز میں آئے گی۔

س ایس پی مسعود بنگش نے میڈیا کو بتایا تھا کہ نمرتا معاملے کو بہت باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں، اگر یہ قتل ہے تو کن عوامل کی وجہ سے ہوا، کس نے کیا اور کیسے کیا، اگر کوئی اور معاملہ ہے تو اس کے محرکات کو بھی دیکھ رہے ہیں۔

ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ 2  سے 3 دن میں موبائل، لیپ ٹاپ فرانزک رپورٹ آ جائے گی، دوپٹے کو فرانزک کے لیے نیشنل لیبارٹری بھیجا گیا ہے، رپورٹ کا انتظار ہے، جیو فرانزک رپورٹ مکمل کر لی گئی، ہاسٹل سے سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی ہے۔

واضح رہے کہ 16 ستمبر کو لاڑکانہ کے چانڈکا میڈکل کالج کے ہاسٹل سے کراچی سے تعلق رکھنے والی طالبہ نمرتا کی لاش برآمد ہوئی تھی، کالج انتظامیہ نے واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی مگر مقتولہ کے بھائی ڈاکٹر وشال نے خودکشی کے امکان کو رد کیا تھا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں