The news is by your side.

Advertisement

دعا زہرا پنجاب سے کہاں گئی ؟ کیس میں نیا موڑ

کراچی : دعا زہرا کی بازیابی کیس میں نیا موڑ آیا ، دعا زہرا پنجاب سے خیبرپختونخواہ پہنچ گئی، جس پر عدالت نے تمام صوبوں کی پولیس کو دعا زہرا کی بازیابی کیلئے اقدامات کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دعا زہرا کی بازیابی اور پسند کی شادی سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی ایسٹ،دعا زہرا کے والدین اور دیگر پیش ہوئے، آئی جی سندھ نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے پنجاب پولیس سے رابطہ کیا ہے معلوم ہوا بچی کے پی کے منتقل ہوگئی۔

ڈی آئی جی سی آئی اے نے کہا کہ ماڈل کورٹ لاہور نے لڑکی کا 164 کا بیان ریکارڈ کیا تھا، ہم نے بچی کی عمر کے تعین کی درخواست دی تھی ، وہ مسترد ہوگئی۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس میں کہا کہ معاملہ یہاں کا ہے کیس یہیں ختم ہوگا حتمی فیصلہ بھی یہیں ہوگا، سندھ میں میرج ریسٹرینٹ ایکٹ ہے کہیں اور شاید نہیں ہے، بچی کو یہاں لانا پڑے گا یہیں کیس کا فیصلہ ہوگا۔

پولیس رپورٹ میں بتایا گیا کہ مظفر آباد کی لوکیشن ٹریس ہوئی مگر کل تمام نمبرز بند ہوگئے، سگنلز بالاکوٹ میں لوکیٹ ہوا وہاں لڑکی اور لڑکا والدہ کے ساتھ تھے، جس پر عدالت نے کہا کہ ہم قانون کے پابند پیں جو خلاف ورزی کررہا ہے اس کے خلاف کارروائی کریں۔

جسٹس اقبال کلہوڑو نے کہا کہ والدین کو دیکھیں کتنے پریشان ہیں ایک دفعہ تو لڑکی کو پیش کرنا ہوگا تاکہ بیان ریکارڈ ہوسکے ،ابھی تک شناختی کارڈز بلاک ہوا نہ ہی کوئی اور کارروائی کی گئی، جب لاہور میں عدالت میں بیان ہوا سندھ پولیس موجود تھی ؟

پولیس نے بتایا کہ جی ہم موجود تھے مگر عدالت نے ہمیں کسٹڈی نہیں دی، جس پر عدالت نے کہا کہ کسٹڈی لینے کا وقت تھا آپ نے مس کردیا، اب موبائل کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ ایک ہفتہ کا وقت دے دیں کوشش کررہے ہیں ، جس پر جسٹس آغا فیصل کا کہنا تھا کہ اتنا وقت نہیں ہے آپ والدین کی حالت دیکھیں جائیں ابھی تلاش کریں بچی کو، جو افسر ناکام ہوگا اس کے خلاف آرڈر پاس کریں گے۔

ڈی آئی جی سی آئی اے نے بتایا کہ ہم آئی بی کے ذریعے بھی بھرپور کوشش کررہے ہیں لڑکی بازیاب ہوجائے، جس پر عدالت نے سیکریٹری داخلہ کو تمام صوبوں کی پولیس کو ہدایات جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام صوبوں کی پولیس کو دعا زہرا کی بازیابی کیلئے اقدامات کی بھی ہدایت کی۔

عدالت نے دعا زہرا کو تیس مئی کو پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کہا کہ لاہور میں لڑکی چھ گھنٹے میں بازیاب ہوگئی کیا سندھ میں ایسا نہیں ہوسکتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں