The news is by your side.

Advertisement

سندھ ہائی کورٹ میں شہریوں کو حبس بے جا میں رکھنے سے متعلق کیس کی سماعت

کراچی: سندھ ہائی کورٹ میں شہریوں کو غیرقانونی حبس بے جا میں رکھنے اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے ڈی ایس پی انسدادِ دہشت گردی کے خلاف کاروائی کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے  شہریوں کو غیر قانونی حبس بے جا میں رکھنے اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت  کرتے ہوئےآئی جی سندھ  اے ڈی خواجہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آئی جی سندھ بتائیں کہ سی ٹی ڈی افسران و اہلکاروں کے خلاف کیا کاروائی کی گئی؟، کیا افسران و اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا؟‘‘۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر کیس میں دوخواست گزار کا موقف ہے کہ سی ٹی ڈی حکام نے خان زارہ، سید وقاص حسین اور عزیز گل کو غیر قانونی حراست میں لیا تھا جس کے بعد سیشن عدالت کی ہدایت پر جوڈیشنل مجسٹریٹ نے چھاپہ مار کر شہریوں کو بازیاب کرایا، لیکن بجائے اس کے کہ شہریوں کو رہا کیا جاتا سی ٹی ڈی نے دہشت گردی کا مقدمہ درج کردیا تھا۔

درخواست گزار کایہ بھی کہنا تھا کہ معاملہ عدالت کے علم میں لائے بغیر شہریوں کا ریمانڈ بھی لے لیا گیا، جب معاملہ سندھ ہائی کورٹ کے سامنےآیا توچیف جسٹس نے اس پر سخت نوٹس لیا۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے شہریوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے  سی ٹی ڈی حکام کے خلاف سخت کاروائی کی ہدایت کی اور آئی جی سندھ سے 24 جنوری کو جواب طلب کرلیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں